طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے

طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے
خیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہے
جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست
وہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے
کہیں ہجوم حوادث میں کھو کے رہ جاتا
جمال یار مری جستجو سے روشن ہے
یہ تابش لب لعلیں یہ شعلۂ آواز
تمام بزم تری گفتگو سے روشن ہے
وصال یار تو ممکن نہیں مگر ناصح
رخ حیات اسی آرزو سے روشن ہے
قابل اجمیری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے