تلاش

میں تیرے تن کے مندر میں جس بت کو ڈھونڈنے آیا ہوں
خالق نے اسے
اک دن مجھ سے
سجدوں کے نشے میں چھینا تھا
اس بت کے سوا میرا جیون
اک وحشت اک بے چینی ہے
جنموں کی ایک تپسیا ہے
اس بت کو تراشا آذر نے
اس بت کو سراہا کعبے نے
رس بس کے زلیخا کے دل میں
اس بت نے یوسف کو چاہا
وہ نس نس میں تھا وینس کی
صدیوں سے محبت کا مظہر وہ بت ہی افرا دیتی تھی
(Aphroditeمحبت کی یونانی دیوی)
وہ عشق بھی ہے ، نروان بھی ہے
وہ بت میری پہچان بھی ہے
وہ بت میرا کی حسرت تھا وہ بت رادھا کی صورت تھا
جس کی بے لاگ محبت نے مجھ کو بھگوان بنایا تھا
میری خاطر اس دنیا میں
جتنے بھی پیمبر آئے ہیں
جتنے بھی صحیفے اترے ہیں
سب نیک و بد کے بہانوں سے
اس بت سے مجھ کو ڈراتے ہیں
خود مجھ کو مجھ سے چھپاتے ہیں
اس بت کی خاطر ، جنم جنم
میں کتنے مندر کھوج چکا
میں کتنے بتوں کو پوج چکا
اب جا کے کہیں تیرے اندر اس بت کی خوشبو پائی ہے
میں تیرے تن کے مندر میں جس بت کو ڈھونڈنے آیا ہوں
وہ بت میری پرچھائیں تھا !!!
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے