تکمیل

تکمیل
مجھے یہ کیا کہا تم نے
ادھوری ہوں تمھارے بن
بڑی ہی ناسمجھ ہوں میں
مجھے یوں بے زباں کرکے
سمجھتے بے زباں ہوں میں
مری اس بے زبانی میں
تمھارا ہاتھ سارا ہے
ادھوری میں کہ تم شاید
یا دونوں ہی ادھورے ہیں
زمیں کا چیر کے سینہ
میں گوہر چُن کے لاتی ہوں
کبھی تاریک راہوں میں
تمھارے ہاتھ خالی ہوں
تو میں امید کا روشن
ستارہ بن کے آتی ہوں
اتارے رب وحی تم پر
لرزتے کانپتے تنہا
مرے ہی پاس آتے ہو
تو میں ڈھارس بندھاتی ہوں
نئی راہیں بناتی ہوں
نئی دنیا دکھاتی ہوں
کبھی میں مخملیں بستر
کبھی چادر ترے سر کی
کبھی زینت ترے در کی
کبھی راحت ترے گھر کی
مگر پھر کبھی خود کو
مکمل کہہ نہیں سکتی
تجھے تسلیم کرنا ہے
مرے بن یہ ادھورا پن
تجھے بھی توڑ جاتا ہے
چلو یہ مان لیتی ہوں ،
مکمل تم مکمل میں
مگر یہ فیصلہ کردے
مری تکمیل تجھ سے ہے
تری تکمیل مجھ سے ہے
ثمینہ گُل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے