تکبر کا انجام

تکبر کا انجام
ایک دن لومڑ کو سخت بھوک لگی۔ یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرنے کے قریب پہنچ گیا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکلا تاکہ کوئی چیز کھانے کے لیے مل جائے جس کے ذریعے سے اپنی بھوک مٹا سکے۔
اس نے باغ میں ایک مرغا دیکھا جو ایک بلند دیوار میں بیٹھ کر آواز نکال رہا تھا۔
لومڑ نے سوچ لیا کہ یہ مغرور، متکبر اور ایک کم عقل ہے۔ اس نے منصوبہ بنایا اور پختہ عزم کر لیا کہ مرغ کو حاصل کرے گا تاکہ ایک ہفتہ کے لیے خوراک بن جائے۔
پوری احتیاط کے ساتھ آگے بڑھا اور اپنے آپ کو لنگڑا ظاہر کر دیا کہ مرغا سمجھے کہ وہ ضعیف اور عاجز ہے۔ پھر لومڑ نے اس سے کہا: ”صبح بخیر! اے پرندوں کے بادشاہ اور مرغیوں کے سردار!“
مرغا اس کے الفاظ سے بہت خوش ہوا اور لومڑی سے کہا: ”خوش آمدید اے لنگڑے! مجھ سے کیا چاہتے ہو اور میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
لومڑ نے بہت چالاکی سے جواب دیا: ”میں اپنی ذات کے لیے کوئی چیز نہیں مانگتا لیکن میں نے یہ سنا ہے کہ مرغیوں کے ایک گروہ کو بہادر اور خوبصورت مرغ کی تلاش ہے جو تاج کے لائق ہو تاکہ وہ مرغیوں کا بادشاہ بن سکے۔“
یہ سن کر مرغ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔
لومڑ ے کہا: میرے ساتھ آ جاؤ تاکہ وقت گزرنے سے پہلے پہلے بادشاہ مقرر کر لوں۔
لومڑ آہستہ آہستہ چل پڑا اور مرغا تیزی سے اس کے سامنے مملکت کی طرف جانے لگا۔
راستہ میں لومڑی نے فریب خوردہ مرغا پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور اس کی گردن کاٹ کر الگ کر دی اور کھانے لگا۔ پھر اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے یہ جملہ کہا: ”یہ ہے تکبر کرنے والوں کا انجام! اب میں دوسرے متکبر کو تلاش کروں گا اور اس کو کھاؤں گا۔“
محمد سرفراز اجمل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے