تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے

تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے
پیڑ سے پوچھیے گا راستہ کیا ہوتا ہے
یاد کرتا ہوں تو یاد آتا ہے تم یاد ہی تھے
چابی ملتی ہے تو صندوق کھلا ہوتا ہے
آنکھ روتی ہے تو امید پنپ اٹھتی ہے
پت جھڑ آتا ہے تو یہ باغ ہرا ہوتا ہے
عمر بھر ڈھونڈتے رہیے گا سبب ہونے کا
ایسی رسی کا فقط ایک سرا ہوتا ہے
چاپلوسوں سے نہیں بنتی کہ کچھ وقت کے بعد
یہی قالین کہیں اور بچھا ہوتا ہے
(یہ شعر "خدا کے دن” ‘ "سفال میں آگ” اور "یونہی” کے لیے )
کچھ کتابوں کو پڑھا جاتا ہے پڑھ کر ان میں
روشنائی کے علاوہ بھی لکھا ہوتا ہے
دو ہی ویرانے ملا کرتے ہیں وحشت کو یہاں
اک خدا ہوتا ہے اور ایک خلا ہوتا ہے
بانٹ دینے کی خوشی اپنی جگہ ہے لیکن
لطف تو وہ ہے جو ملنے پہ ملا ہوتا ہے
دن نکلتا ہے تو ہم رات پہ ہنس دیتے ہیں
شام ہوتی ہے تو سورج سے گلہ ہوتا ہے
فتح کرتا ہے وہ جب دل کی فصیلیں آرش
اس کا پرچم مرے پرچم سے بنا ہوتا ہے
سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے