تیور جبینِ یار کے مبہم نہیں رہے

تیور جبینِ یار کے مبہم نہیں رہے
طے ہو گیا کہ آج ہم باہم نہیں رہے
وہ رات میری عمر میں شامل نہ ہو سکی
جس رات میرے ساتھ تِرے غم نہیں رہے
پہلے تو موسموں کو مِری احتیاج تھی
رخصت ہوا تو شوق کے موسم نہیں رہے
میں راہِ انقلاب سے ڈرتا نہیں مگر
مٹی پہ میرے پاؤں ابھی جم نہیں رہے
سوچا کہ میں نے اَوس بھی دیکھی نہیں کبھی
شب نے کہا کہ نین کوئی نم نہیں رہے
دیکھا ہے اور شخص کو اپنے لباس میں
گویا کہ اپنے آپ کے بھی ہم نہیں رہے
دستِ دعا تو بھر ہی گیا خون سے مگر
ناصر یہ میرے اشک ابھی تھم نہیں رہے
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے