تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا

تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
عورت کو کربِ ذات نئی زندگی لگا
لگتا ہے مجھ کو میں کسی مردہ بدن میں تھی
جینے کا حوصلہ جو ملا اجنبی لگا
آتی ہوئی رتوں کی اچانک خبر ملی
جب رنگ ڈھالنے کوئی تازہ کلی لگا
سپنے میں کیا لکھا ہے یہ تو نے نگارِ شب
وہ چاند کی مثال مجھے چاند ہی لگا
اک جھیل میں کنول پہ وہ محوِ خرام خواب
آنکھوں کے پانیوں کی مجھے شاعری لگا
خوشبو سے جس کی رہتی ہوں سرشار و دم بخود
پیکر مرا اسی کو بہت کامنی لگا
نیناں، اڑی جو نیند ، تو اک جاں فزا خیال
خوشبو لگا ۔۔۔بہار لگا ۔۔۔روشنی لگا
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے