تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے

تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے
ہمیں دوبارہ بحال ہونے میں دن لگیں گے

ہم اتنی جلدی کبھی کسی پر کهلے نہیں ہیں
تمہیں ہمارا ملال ہونے میں دن لگیں گے

ابهی ابهی تو جدا ہوئے ہو ابهی کہاں یہ
ہمارے بارے سوال ہونے میں دن لگیں گے

ہماری آنکهیں تو رتجگوں نے کرید ڈالیں
تمہاری آنکھوں کو لال ہونے میں دن لگیں گے

یہ جسم بے حس ہے یار لیکن مرا نہیں ہے
سنو ابھی انتقال ہونے میں دن لگیں گے

ملال یہ ہے کہ دل بهی زخمی ہوا ہمارا
اب اس کا بهی استمال ہونے میں دن لگیں گے

جاوید مہدی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے