تغافل ، بےنیازی کا گِلہ کافی نہیں ہے

تغافل ، بےنیازی کا گِلہ کافی نہیں ہے
مرا رستہ ہی روکو ، اب صدا کافی نہیں ہے
یہ گہری کالی آنکھیں ، دیکھ تو ، کیا کہہ رہی ہیں
انھیں پابند رکھنے کو وفا کافی نہیں ہے
تمہارے کاسۂ الفت میں کچھ سکّے اچھالے
تمہارا دل لُبھایا، یہ صلہ کافی نہیں ہے؟
زمینی بات ہے، ٹھہرے گی آخر جستجو پر
ہمیشہ ساتھ رہنے کی دعا کافی نہیں ہے
نبھانا ہے بہر صورت یہ کاروبارِ دنیا
کہ عشق و عاشقی کا سلسلہ کافی نہیں ہے
چلو اچھا ہوا ، رفتار تو کم ہو گئی، پر
بچھڑ جانے کو اب بھی فاصلہ کافی نہیں ہے
جمالِ کائناتی معجزہ ہے حُسنِ ”کُن” کا
یہاں پر ارتقاء کا فلسفہ کافی نہیں ہے
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے