ہجرلازم ہے اب زندگی کے لیے

ہجر لازم ہے اب زندگی کے لیے وصل سب کچھ نہیں عاشقی کےلیے اک اشارہ نظر ہو اگر اس طرف ہو سہارا مجھے خامشی کے لیے ٹوٹ جاٸے کہیں خامشی کا فسوں با خُدا کچھ کرو گُفتنی کے لیے کون پہنچاٸے گا آدمی کو ضرر آدمی کافی ہے آدمی کے لیے ایک سجدےکامُسلم تھاپہلےہی میں جو کیا ہی نہیں بندگی کے لیے چھوڑ کر کیا گٸے حالتِ عشق میں منتظر ہوں یہاں جاں کنی کے لیے جاں رقیبوں کی چاہت

Read more
1 2 3