تدبرِ قرآن

تدبرِ قرآن
ترجمہ:
بے شک میرا رب نزدیک٬ قبول کرنے والا ہے۔
(11:61)

یہ آیت مبارکہ میری سب سے زیادہ پسندیدہ ہے٬ اگرچہ مختصر ہے لیکن اس کا مفہوم نہایت وسیع ہے۔ اس میں دو الفاظ قریب (ونحن اقرب الیہ من حبل الورید: سورۃ بقرۃ) اللہ انسان کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں٬ پہلے ہم اس لفظ قریب کو سمجھیں کہ قریب کیا ہوتا ہے!
قریب وہ ہوتا ہے جو سب کچھ جانتا ہے٬ لیکن جاننے کے لیے تو عربی میں علیم کا لفظ موجود ہے پھر قریب کو کیوں جاننے کے مفہوم میں سمجھا جائے..
اب یہاں دیکھیں کہ قریب اور مجیب (قبول کرنے والا٬ کچھ علماء نے اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے دعاؤں کا جواب دینے والا) اب ذرا سوچئے کہ کیوں پہلے قریب کا لفظ استعمال کیا گیا اور پھر مجیب؟
اللہ تعالیٰ اگر میں اپنی ذات سے یہ سوال کروں تو مجھے یہ لگتا ہے کہ قریب (نہایت نزدیک٬ اس قدر نزدیک کہ اسے کچھ بتانے کی ضرورت نہ ہو)۔ پیارے اللہ تعالیٰ آپ تو کن کہنے سے پہلے جانتے ہیں کہ یہ ہوگا٬ آپ ہونی سے پہلے جانتے ہیں٬ آپ بات کہنے والے سے پہلے اس کی بات کو جانتے ہیں٬ اللہ آپ سے تو کچھ چھپ نہیں سکتا٬ یہاں آپ نے ہمیں سمجھانے کے لیے قریب کا لفظ استعمال کیا کیونکہ عموماً ہمارے یہاں جو شخص ہمارے سب سے قریب ہوتا ہے وہی ہمارا رازدار بھی ہو ہوتا ہے٬ عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ جو شخص آپ کے سب سے قریب ہوگا وہی آپ کی ہر بات سے واقف ہوگا٬ اور ہوتا بھی یہی ہے٬ انسان اس ہی شخص کے قریب ہوتا ہے جو اس کا رازدار ہوتا ہے۔
اللہ آپ کا انداز کس قدر حسین ہے..
اللہ اکبر کبیراً
بے شک اللہ آپ کا کلام سب سے بہترین ہے۔
اب چونکہ اللہ قریب ہیں تو انسان کو ضرورت نہیں اول سے آخر تک پوری داستان سنانے کی٬ یا اپنی صفائی پیش کرنے کی٬ اس تکلیف دہ عمل سے بار بار گزرنے کی٬ کیونکہ جس ہستی سے وہ اس وقت کلام کر رہا ہے وہ اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب٬ اس کے حالِ دل تک سے واقف ہے۔
تو جس شخص کو کچھ سنانا ہے یا کوئی دعا قبول کروانی ہے تو اس کے لیے بے حد آسانی ہے٬ کیونکہ جس ہستی کے پاس اسے جانا ہے وہ اس کے نہایت قریب ہے۔
اس دعا کی قبولیت کے لیے ہمیں ایک لمبی لائن میں گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑتا٬ ہمیں مہینوں پہلے کوئی appointment نہیں لینی ہوتی٬ محض اس در پر سوالی بن کر جانا ہوتا ہے اور بس۔
قریب کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ آپ فرماتے ہیں آپ مجیب ہیں.. یعنیٰ دعاؤں کو قبول کرنے والے..
جس دن اللہ مجھے اپنی دعاؤں کی قبولیت پر یقین ہوا٬ بس اس ہی دن سے اپنی مانگی ہر دعا بے مول لگنے لگی٬ جب انسان کو دنیا جہاں کا خزانہ پیش کیا جائے تو کیا وہ راضی ہوگا محض چند سونے کے سکوں پر؟
نہیں ناں٬ کچھ یہی حال اس عاجزہ کا بھی ہے٬ اب گویا اللہ فرماتے ہوں مانگو کیا مانگتے ہو؟
اور ہم گھنٹوں اس کشمکش میں گزار دیں کہ آخر سب سے قیمیتی ہے کیا چیز؟
مجھے تو اللہ اس دن سے سب فنا ہی نظر آیا ہے (کل من علیھا فان) باقی تو اللہ صرف اللہ کہ ذات ہے (ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام) جس کو کبھی زوال نہیں٬ وہ ہستی جو باکمال ہے٬ وہ ہستی جو اپنی مثال آپ ہے٬ وہ ہستی جس کی نہیں کوئی مثل۔
میرے پیارے اللہ تعالیٰ مجھے جس دن سے آپ کی اس خوبصورت کتاب سمجھ آنے لگی ہے٬ دنیا کی ہر شی بے معنیٰ ہوگئی ہے٬ ہر تعلق٬ ہر رشتہ اللہ آپ کے دین کا محتاح ہوگیا ہے٬ یہ ایک سمندر ہے اللہ جو اتنا وسیع ہے اس قدر وسیع کہ یہ ہزاروں کروڑوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دیتا سب کو قیمتی موتی ہے۔ سیپ سے نکلا وہ موتی جس کی قیمت کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا٬ وہ موتی جو سب کو نہیں ملا کرتا بس اپنے جیسے چند ایک قیمتی ہیروں کو ہی وہ موتی ملا کرتا ہے۔
میں سوچتی ہوں اللہ تعالیٰ آپ نہایت قریب ہیں٬ ہر شئ سے واقف٬ دلوں کے میل٬ کدورتوں٬ مرضِ حسد٬ کینہ٬ بغض٬ عداوت گو کہ ہر شئ سے واقف ہونے کے باوجود اللہ آپ کتنی محبت سے کہتے ہیں ناں…
گو کہ آپ سے بہتر کوئی ہمیں جانتا نہیں اور آپ سے زیادہ کوئی ہم سے مخلص نہیں٬ کسی کو نہیں ہے پرواہ ہماری ماسوا آپ کے۔
اے کاش کہ ہم نے آپ کو جانا ہوتا اللہ٬ اے کاش کہ ہم نے قدر کی ہوتی ہے٬ اے کاش کہ ہم نے حق ادا کیا ہوتا…!
اے کاش کہ ہم نے آپ سے تعلق جوڑا ہوتا٬ کاش کہ ہم نے آپ کو سنا ہوتا٬ میں نے سنا ہے آپ کے لوگوں سے اللہ.. جو شخص آپ کی بات سن لے٬ پھر اسے دنیا کی کوئی بات دلچسپ نہیں لگتی پھر وہ بس آپ کا ہوکر رہ جاتا ہے٬ وہ فلاح پا جاتا ہے.. مجھے بھی ان میں شامل کرلیجیے ناں اللہ تعالیٰ٬ ہوں تو میں بھی آپ ہی کی…!
اللھمہ اخلصنا لک
از قلم: بریرہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے