تاچند انتظار قیامت شتاب ہو

تاچند انتظار قیامت شتاب ہو
وہ چاند سا جو نکلے تو رفع حجاب ہو
احوال کی خرابی مری پہنچی اس سرے
اس پر بھی وہ کہے ہے ابھی ٹک خراب ہو
یاں آنکھیں مندتے دیر نہیں لگتی میری جاں
میں کان کھولے رکھتا ہوں تیرے شتاب ہو
پھولوں کے عکس سے نہیں جوے چمن میں رنگ
گل بہ چلے ہیں شرم سے اس منھ کی آب ہو
یاں جرم گنتے انگلیوں کے خط بھی مٹ گئے
واں کس طرح سے دیکھیں ہمارا حساب ہو
غفلت ہے اپنی عمر سے تم کو ہزار حیف
یہ کاروان جانے پہ تم مست خواب ہو
شان تغافل اس کی لکھی ہم سے کب گئی
جب نامہ بر ہلاک ہو تب کچھ جواب ہو
لطف شراب ابر سے ہے سو نصیب دیکھ
جب لیویں جام ہاتھ میں تب آفتاب ہو
ہستی پر ایک دم کی تمھیں جوش اس قدر
اس بحرموج خیز میں تم تو حباب ہو
جی چاہتا ہے عیش کریں ایک رات ہم
تو ہووے چاندنی ہو گلابی شراب ہو
پرپیچ و تاب دود دل اپنا ہے جیسے زلف
جب اس طرح سے جل کے درونہ کباب ہو
آگے زبان یار کے خط کھینچے سب نے میر
پہلی جو بات اس کی کہیں تو کتاب ہو
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے