صورت سُرخی پاؤڈر سے وہ سوہنی کر کے بیٹھے ہیں

صورت سُرخی پاؤڈر سے وہ سوہنی کر کے بیٹھے ہیں
جن پر ہم نے شعر کہے وہ منگنی کر کے بیٹھے ہیں
ایسے دوست دعا کرتا ہوں کسی نہ دشمن کے بھی ہوں
بات مری کروانی تھی وہ اپنی کر کے بیٹھے ہیں
پیپر میں جو پاس ہوئے گل چھرّے آج اڑائیں گے
سپلی کھانے والے صورت رونی کر کے بیٹھے ہیں
فلم میں ہیرو آنے کی اک دور میں خواہش رکھتے تھے
لیکن آج وہی ہم توندیں دگنی کر کے بیٹھے ہیں
پیٹ بھرے کچھ مچھر مار دیے ہیں اپنے ہاتھوں سے
یعنی ہم بھی سارا منظر خونی کر کے بیٹھے ہیں
میں نے تو بس ان کی کرسی کے سنگ اپنی کرسی کی
میری پسلی پر وہ اپنی کہنی کر کے بیٹھے ہیں
ڈاکٹر فخر عباس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے