صورتِ آبِ رواں ہوتا ہے

صورتِ آبِ رواں ہوتا ہے
وقت زنجیر کہاں ہوتا ہے
ہم سمجھتے ہیں جسے مہلتِ خواب
وقفۂ کارِ جہاں ہوتا ہے
لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
دشت آباد کہاں ہوتا ہے
کیا مکیں صرف مکیں ہوتے ہیں
کیا مکاں صرف مکاں ہوتا ہے
عکس آتا ہے نظر اپنا ہی
آئنہ کس پہ عیاں ہوتا ہے
عمر ہو جاتی ہے چلتے چلتے
سلسلہ ختم کہاں ہوتا ہے
سلسلہ وار بکھرتے ہم ہیں
سُود در سُود زیاں ہوتا ہے
کچھ نئی بات نہیں ہے غائر
یہ تو ہر آن یہاں ہوتا ہے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے