سورۃ فاتحہ کے اسماء

سورۃ فاتحہ کے اسماء

سورۃ فاتحہ کے بہت اسماء ہیں اور کسی چیز کے ذیادہ اسماء اس چیز کی فضیلت اور شرف پر دلالت کرتے ہیں۔علامہ آلوسیؒ نے اس کے بائیس اسماء کا ذکر کیا ہے۔یہ فاتحۃ الکتاب ہے کہ مصحف عظیم کا آغاز اس سورۃ سے ہے۔تعلیم کی ابتدا اور نماز میں قرات کا افتتاح بھی اسی سورہ سے ہے۔جامع ترمذی کی حدیث ہے کہ جس شخص نے فاتحۃ الکتاب کو نہیں پڑھا اس کی نماز(کامل) نہیں۔ اس حدیث کو امام ابن ماجہؒ اور امام احمدؒ نے بھی روایت کیا ہے۔اسے اُم القرآن بھی کہتے ہیں۔کسی چیز کی اصل اور اس کے مقصود کواُم کہتے ہیں۔پورے قرآن کا مقصود چار چیزوں کو ثابت کرنا ہے۔ایک الوہیت یعنی اللہ کی کبریائی،دوم معاد یعنی مر کر دوبارہ اٹھنا،سوم قضاء و قدر یعنی تقدیر پر ایمان اور چہارم نبوتؐ یعنی نبیؐ کی ضرورت و اہمیت۔اور پروردگار نے اس سورۃ مقدسہ میں ان چاروں مقاصد کی تبلیغ فرمائی ہے۔پہلی دو آیات الوہیت کو بیان کرتی ہیں۔تیسری آیت میں معاد کا ذکر ہے۔چوتھی آیت میں قضاء و قدر کا بیان ہے اور بقیہ آیات میں نبوت کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔اس سورۃ کا نام سورۃ حمد بھی ہے کیوں کہ اس میں مالک کائنات کی حمد بیان کی گئی ہے۔سنن دارمی میں مذکور ہے۔اس کو سبع مثانی بھی کہتے ہیں۔سورۃ الحجر:۷۸ میں ہے۔”ہم نے آپ کو سات آیات دیں جو دہرائی جاتی ہیں۔”سبع مثانی اس لیے کہتے ہیں کہ سبع کا مطلب ہے سات اور مثانی کی درج ذیل وجوہات ہیں۔اول یہ کہ اس سورۃ کے نصف میں پروردگار کی ثناء ہے اور نصف میں پروردگار سے دعا ہے۔

ثانی یہ کہ ہر دو رکعت نماز میں اسے دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ثالث یہ کہ یہ دو بار نازل ہوئی۔رابع یہ کہ اس کوپڑھنے کے بعد دوسری سورۃ ملائی جاتی ہے۔اسے ا ُم الکتاب بھی کہا جاتا ہے امام بخاریؒ روایت فرماتے ہیں کہ” ابو سعید خدریؓ نے ایک شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس کو بچھو نے کاٹ لیا تھا اور کہا کہ میں نے صرف اُم الکتاب پڑھ کر دم کیا ہے۔”اس کا ایک نام وافیہ بھی ہے۔اس کی وجہ مفسرین نے بیان فرمائی کہ یہ وہ سورۃ ہے جسے آدھا آدھا نہیں پڑھا جا سکتا کہ جب بھی پڑھیں گے مکمل پڑھیں گے۔لیکن ایسا سورۃ کوثر کے ساتھ بھی ہے۔لہذاوافیہ اس وجہ سے بھی کہتے ہیں کہ اس کے مضامین جامع اور وافی ہیں۔اس کا ایک نام الکافیہ بھی ہے کیونکہ دوسری سورتوں کے بدلے میں اسے پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس سورت کے بدلے میں کسی دوسری سورۃ کو نہیں پڑھا جا سکتا۔

اس کا ایک اسم الشفاء بھی ہے۔سنن دارمی میں مذکور ہے کہ "حضرت عبد الملک بن عمیرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیؐ نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہر بیماری کی شفاء ہے۔”امراض روحانی بھی ہوتے ہیں اور جسمانی بھی۔یہ ہر ایک کے لیے باعث شفاء ہے۔اس کا ایک نام سورۃ الصلوۃ بھی ہے۔اسے سورۃ الدعا بھی کہتے ہیں کہ اس میں دعا کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا گیا ہے اور کیا دعا کرنی ہے وہ بھی تربیت فرمائی گئی ہے۔یعنی سکھایا گیا کہ پہلے رب عظیم کی حمد و ثناء کریں اور پھر اس سے دعا میں ہدایت طلب کریں اور نیک لوگوں کا ساتھ مانگیں۔ علامہ بقاعیؒ نے ان اسماء کے علاوہ سورۃ فاتحہ کے اسماء میں اساس،کنز،واقیہ،رقیہ اور شکر کا بھی ذکر فرمایا ہے۔علامہ بقاعیؒ نے ان اسماء میں ربط کو یوں بیان فرمایا کہ فاتحہ کے اعتبار سے ہر نیک عمل کی شروعات اس سورۃ سے ہے۔اُم کے لحاظ سے ہر خیر کی اصل ہے۔ہر نیکی کی اساس ہے۔مثنیٰ کے لحاظ سے دو بار پڑھے بغیر یہ لائق شمار نہیں۔ہر مقصود کے لیے وافی ہے۔واقیہ کے لحاظ سے ہر برائی سے بچانے والی ہے۔رقیہ کے اعتبار سے ہر آفت نا گہانی کے لیے دم ہے۔اس میں حمد کا اثبات ہے جو صفات کمال کا احاطہ ہے۔اور شکر کا بیان ہے جو منعم کی تعظیم ہے۔اور یہ بعینہ دعا ہے۔ان تمام امور کی جامع الصلوۃ ہے۔علامہ آلوسیؒ نے اس سورۃ کے جن بائیس اسماء کا ذکر کیا ہے ان میں فاتحہ القرآن،تعلیم المسئلہ،سورۃ السوال،سورۃ المناجات،سورۃ التفویض شافعیہ اور سورۃ النور بھی ہیں۔حاصل گفتگو یہ ہے کہ اس سورۃ مقدسہ کے اسمائے کثیر اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ بڑی شرف و فضیلت والی سورۃ ہے۔نماز کے علاوہ بھی اس کی تلاوت کی کثرت کرتے رہنا چاہیے۔اس کے اسماء سے ہی اس کی فضیلت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔تفسیر تبیان القرآن سے خوشہ چینی کرنے کا مقصد اس فیض کو عام کرنا ہے۔آئندہ کالم میں ان شاء اللہ احادیث کی روشنی میں اس سورۃ کے فضائل جاننے کی سعادت حاصل کریں گے۔وما علینا الا البلاغ

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے