سنتے تھے بیوفائیاں تیری

سنتے تھے بیوفائیاں تیری
ہر طرف آشنائیاں تیری
ضبط کی انتہا ہے اور وہ ہے
جس نے جھیلی جدائیاں تیری
تجھ سے یہ دل کلام کیا کرتا؟
یاد تھیں خود نمائیاں تیری
غم نہیں ہے اگر بچھڑنے کا
کیوں پھر آنکھیں بھر آئیاں تیری؟
دل یہ ناہید بھولتا ہی نہیں
لاکھ باتیں بھلائیاں تیری
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے