سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے

سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے
اب زندگی گزار تو صبرِ جمیل سے
میں نے دیے کی لو پہ تیرا اسم کیا پڑھا
اک روشنی سی پھوٹ پڑی تھی فصیل سے
دل کو سکون بخش دے اے خالق جہاں
تنگ آگیا ہے اب یہ جہانِ ذلیل سے
کیوں راس مجھ کو عشق بھی آیا نہیں میاں
کیوں سامنا ہوا مرا ہجرِ قلیل سے
طارق اب اس قدر بھی نہ سچے بنو یہاں
رد بھی کیا نہ جا سکے تم کو دلیل سے
طارق جاوید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے