سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
محبّتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں

وہ شہرِ حیرت کا شاہزادہ گرفتِ ادراک میں نہیں ہے
اس ایک چہرے کی حیرتوں میں ہزار آنکھیں سما چکی ہیں

ہم اپنے سرپر گزشتہ دن کی تھکن اٹھائے بھٹک رہے ہیں
دیارِ شب! تیری خواب گاہیں تمام پردے گرا چکی ہیں

بدلتے موسم کی سلوٹوں میں دبی ہیں ہجرت کی داستانیں
وہ داستانیں جو سننے والوں کی نیند کب کی اڑا چکی ہیں

وہ ساری صبحیں تمام شامیں کہ جن کے ماتھے پہ ہم لکھے تھے
سنا ہے کل شب تمہارے در پر لہو کے آنسو بہا چکی ہیں

کہاں سے آئے تھے تیر ہم پر، طنابیں خیموں کی کس نے کاٹیں
گریز کرتی ہوائیں ہم کو تمام باتیں بتا چکی ہیں

دھوئیں کے بادل چھٹے تو ہم نے نبیلؔ دیکھا عجیب منظر
خموشیوں کی سلگتی چیخیں فضا کا سینہ جلا چکی ہیں

عزیز نبیل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے