سفر تنہا نہیں کرتے

سفر تنہا نہیں کرتے
سنو ایسا نہیں کرتے

جسے شفاف رکھنا ہو
اُسے میلا نہیں کرتے

تیری آنکھیں اجازت دیں
تو ہم کیا نہیں کرتے

بہت اُجڑے ہوئے گھرکو
بہت سوچا نہیں کرتے

سفر جس کا مقدر ہو
اُسے روکا نہیں کرتے

جو مل کر خود سے کھو جائے

اُسے رُسوا نہیں کرتے
یہ اُونچے پیڑکیسے ہیںسایہ نہیں کرتے

کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں
کبھی رویا نہیں کرتے

تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں

تجھے دیکھا نہیں کرتے

چلو!!!
تم راز ہو اپنا
تمہیں افشا نہیں کرتے

سحر سے پوچھ لو محسن
ہم سویانہیں کرتے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے