Sulag Uthee Hay Koi

سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں

بدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میں

نہ آئی راس بناوٹ کی زندگی مجھ کو

میں شہر چھوڑ کے پھر آ گیا ہوں گاؤں میں

قدم قدم پہ نیا اک خدا نظر آیا

نہ جانے کون سا برحق ہے ان خداؤں میں

کوئی امید کی بارش کا اہتمام کرو

میں جل رہا ہوں غم و یاس کی چتاؤں میں

بہت کڑا ہے محبت کے راستوں کا سفر

جفا کی دھوپ چھپی ہے وفا کی چھاؤں میں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے