سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے

سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے
وہ جیسے خواب میں محسوس کر رہا تھا مجھے
یہی تھا چاند اور اس کو گواہ ٹھہرا کر
ذرا سا یاد تو کر تو نے کیاکہا تھا مجھے
تمام رات میری خواب گاہ روشن تھی
کسی نے خواب میں اک پھول دے دیا تھا مجھے
وہ دن بھی آئے کہ خوشبو سے میری آنکھ کھلی
اور ایک رنگ حقیقت میں چھو رہا تھا مجھے
میں اپنی خاک پہ کیسے نہ لوٹ کر آتی
بہت قریب سے کوئی پکارتا تھا مجھے
درون خیمہ ہی میرا قیام رہنا تھا
تو میر فوج نے لشکر میں کیوں لیا تھا مجھے​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے