سخن جو خود سے کِیا تیرے رُو برو کرتے

سخن جو خود سے کِیا تیرے رُو برو کرتے
اگر وہ چاند سرِ آسماں نظر آتا
چراغ ہم بھی کوئی نذرِ آب جُو کرتے
میانِ دشتِ یقین و گماں رہے ورنہ
سراب دیکھنے والے تو ہا ہُو کرتے
عجب مزاج تھا اپنا کہ گھر میں بیٹھے رہے
کچھ اَور سوچتے، کچھ اَور جستجو کرتے
وہ دل کا داغ تھا غائر سو دل کے ساتھ گیا
وہ کوئی زخم نہیں تھا کہ ہم رفو کرتے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے