شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

وہ جھوٹی تھی۔ سدا کی جھوٹی۔ محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ میں زوردیتا تو کہنے لگتی“میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے۔ یہ محبت ہی شک میں مبتلا کرتی ہے۔میں نظریں نیچی کیے سنتا رہتا۔ منہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا تواجلے لباس میں سفید گردن پر سجا نورانی چہرہ ایسا شائستہ، پروقار اور پرصداقت دکھائی دیتا کہ اس پر مغموم و دل گیر فرشتے کا گمان ہونے لگتا۔ روشنی کی حریص موٹی موٹی نیلگوں آنکھوں میں جھانکتا تو کالی پتلیاں اور سیاہ ہو جاتیں لیکن ان کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر سارا درد و کرب اجنبی ہو جاتا۔

وہ جھوٹی تھی۔ بہت سلیقے سے جھوٹ بولتی تھی۔ یونیورسٹی میں تھی تو اپنے گاؤں اور زمینوں کی ایسے باتیں کرتی کہ جیسے تمام پٹواری تحصیلدار اس کے نسلی غلام ہیں۔ جب ہم دونوں کا یورپ آنے کا پروگرام بنا تو پرسکون لہجے میں بولی کہ میرے بابا تویونیورسٹی کے اخراجات پورے کر لیں گے تم ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں وظیفہ اپلائی کر دو یا کوئی ڈونر ایجنسی ڈھونڈ لو۔”

مجھے پتا تھا کہ وہ جسے ان تمام امدادی پروگراموں کا مجھ سے زیادہ علم ہے، خود بھی کوئی مدد ڈھونڈ رہی ہوگی۔ مجھے توکچھ مدد مل گئی اور شاید اسے بھی۔ ہم دونوں ایک ہی ہاسٹل میں رہائش پذیر ہوئے۔ مختصرسے کمرے تھے بڑی مشکل سےایک بیڈ اور ایک ریڈنگ ٹیبل پورا آتا تھا۔ چار کمروں کے لیے ایک مشترکہ باتھ روم اور کچن۔ ہمارے گاؤں والے گھر میں تو ایک کمرہ تھا اور وسیع دالان کی اس نکڑ میں ایک بغیر چھت والا غسل خانہ۔ میرے لیے تو یہ ہاسٹل تاج محل تھا۔ وہ موٹی آنکھیں جن کی سیاہ و عمیق پتلیوں میں جھوٹ کے بھوت تنکتے تھے، مٹکاتی ہوئی کہتی “ایسے ہاسٹل میں گذارا کرنا مشکل ہے۔ میں تو محل نما گھروں میں رہنے کی عادی ہوں۔ ”اگلے سال وہ یونیورسٹی کے قریب ایک بڑے سے گھر میں پیئنگ گیسٹ کے طور پر منتقل ہوگئی۔

اسی گھر سے خرابیوں کا آغاز ہوا۔

اس کے اظہار محبت میں بھی جھوٹ کا زہر شامل ہو گیا۔ اب جھوٹ اس کے ہونٹوں سے پھنکارتے ہوئے نکلتے اور میری روح کو جکڑ لیتے۔ وہ نرمی سے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتی “تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا چاہیے۔ میں صرف تمہاری ہوں۔ وہ بوڑھا میرا بہت خیال رکھتا ہے۔ اگر میں اس کے ساتھ گھومنے چلی جاتی ہوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟“

سوانگ بدلتے ہوئے بولی “چھوڑو، ان نفرت بھری باتوں کو۔ چلو! اپنی پسندیدہ دوکان سے پیزا کھلاؤ۔”

“تم خود کیوں نہیں لے آتیں؟”

“مجھے اس کا افغانی مالک ذرا نہیں بھاتا۔ وہ مجھے بہت غصے سے دیکھتا ہے۔

میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں لیکن پیچھے کھڑی رہوں گی۔”

کچھ دیر ہم بیٹھے رہے۔ جانے لگی تو میرے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ میں نے کھینچ کرگلے سے لگانا چاہا تو بھاگ گئی۔

“ کل ملاقات ہوگی. تم جلدی آجانا۔”

یہ بھی اس نے جھوٹ کہا تھا۔ میں اکیلا بیٹھا انتظار کرتا رہا، وہ نہ آئی۔ شام ڈھل کر رات میں بدل گئی۔ دل گرفتہ، کبیدہ خاطر چلتے چلتے نہ جانے کب اس عظیم الشان مکان تک پہنچ گیا جس میں وہ رہتی تھی۔ گھر میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف ڈیوڑھی کی لائٹ جل رہی تھی۔ میں دل جمع کر رہا تھا کہ اس کے دروازے تک جا کر دیکھ لوں۔ دیر تلک گلی کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر گھومتا رہا۔ جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گذرتا، میری نظریں اس آبدار دروازے پر جم جاتیں۔ تھوڑا آگے بڑھتا تو بار بار مڑ کر دیکھتا۔ اس عالیشان مکان کی بند کھڑکیوں پرنظر دوڑاتا۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی اور سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی اس گلی کی پژمرده فضا کو توڑتی کوئی گاڑی گذرتی تو میں خود کو کسی اوٹ میں چھپا لیتا۔ ایسی ہی ایک گاڑی گھوم کر اس گھر کے گیراج میں داخل ہوئی۔ بلند و بالا قامت والا گورا چٹا بوڑھا اس گاڑی سے برآمد ہوا۔ ناز و تبختر سے قدم اٹھاتا بائیں طرف آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ باہر نکلی تواس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اوردونوں اندر چلے گئے۔

اگلے دن وہی بحث تھی اور اس کی جھوٹی تسلیاں و وعدے۔

میں نے خاموشی اختیار کر لی۔

آخری سال تھا میرے معاشی حالات مزید خراب ہو رہے تھے۔ ہفتے میں بیس گھنٹے کی قانونی جاب سے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔ اس لیے میں نے اسی پیزا شاپ پر کام شروع کردیا۔ اس کا مالک ایکسٹرا کام کی تنخواہ نقد دے دیتا۔ کوئی ٹیکس کٹتا اور نہ ہی حساب کتاب رکھا جاتا۔ میں زیادہ مصروف ہو گیا اور وہ بھی بہانے بہانے سے کم ہی ملتی۔

وقت گذر گیا۔ ہمارا کورس پورا ہو چکا تھا۔ اب میرا ارادہ واپس جانے کا تھا اور وہ پی ایچ ڈی کی خواہش مند۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔

ایک رات میں نے ان دونوں کو نائٹ کلب میں دیکھا۔ وہ اس گورے کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی۔ لمبے تڑنگے بڈھے کی باہوں میں جھول رہی تھی۔ میں ہرحرکت کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ رفتار و طور دیکھ رہا تھا، طرز و وضع کو پرکھ رہا تھا۔ اس نے بھی مجھے دیکھ لیا لیکن چال ڈھال میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی کہ جیسے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ عرصہ ہوا میں اس کی کم نگہی کے افراط کا شکار تھا لیکن اس کا یہ بے پروایانہ انداز دیکھ کر زمین میں پیوست ہو گیا۔

اگلے دن میں نے اسے پکڑ لیا۔

“سچ سچ بتاؤ۔ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

“وہ مالک مکان ہے اور میں اس کی پیئنگ گیسٹ۔”

“لیکن وہ ڈانس؟”

“ڈانس کا کیا ہے؟ وہ توکسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تم نہیں کرتے؟”

میں نے اسے ڈرایا دھمکایا، اس پر دانت پیستا رہا۔ منتیں کیں۔

وہ جھوٹ بولتے جارہی تھی۔

مجھے پکا یقین تھا۔

برف جیسے سرد مہر چہرے کے ساتھ، کالی سیاہ عمیق آنکھوں سے جھوٹے آنسوں گراتے ہوئے بولی “تم کیسا الزام لگا رہے ہو؟ وہ میرے باپ کی عمر کا ہے۔”

“یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ تمہارا شوگر ڈیڈی ہے۔”

متحیر آبروؤں کو لہراتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہنے لگی “میری بلا سے! تمہیں اشتباہ ہے، تو کیا؟”

وہ بہت اعتماد سے جھوٹ بول رہی تھی۔

میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ آنکھوں کی گہرائی میں اس کے دعوے کا بطلان موجود تھا۔ خط پیشانی میں کوئی بل نہیں تھا۔ سچ اس گولڈ ڈگر کی سیدھی مانگ کے پیچھے سیاہ بالوں کے جمگھٹے میں کہیں چھپا بیٹھا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ میں اس کا جھوٹ ثابت نہیں کرسکوں گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا بولا ہوا صرف ایک لفظ میرے اس جگر شکن دکھ اور جاں ستاں درد کو ختم کردے گا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ لفظ بھی جھوٹ ہی ہوگا لیکن مجھے اسی کا انتظار تھا۔ پھر وہ لفظ اسکے لبوں سے ادا تو ہوا لیکن مجھے اور دکھی کر گیا۔

“میں تم سے محبت کرتی ہوں اور صرف تمہاری ہی ہوں لیکن اب سوچنا پڑے گا۔”

“میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں، چاہے وہ میرے لیے زہر کی طرح کڑوا ہو۔ شاید اسے سن کر میں مر ہی جاؤں۔ تم سچ کہہ دو۔ میں زندہ رہا تو بھی تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔”

“پھر سنو۔ سچ یہ ہے کہ میں تمہارے جیسے کنگلے کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔”

“تو سچ تمہاری زبان پر آ ہی گیا کہ وہ بگا بلا تمہارا شوگر ڈیدی ہے۔ تمہارا کھانڈ بابا۔”

“یہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔”

کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی

“جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو اجازت ہو تواس کے بارے میں کچھ کہوں؟”

“ہاں، ہاں، بولو۔”

“یاد کرو، تمہارا وہ افغانی پیزے والا جو مجھ سے نفرت کرتا تھا۔ جب تم اس سے پیزا لینے جاتے تو وہ کیا کرتا تھا؟ تم جھینپ کر کنکھیوں سے میری طرف دیکھتے کہ کہیں میں نے دیکھ تو نہیں لیا؟”

وہ بکواس کررہی تھی۔

میں غصے سے چلایا “تم اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے ایک اور جھوٹ بول رہی ہو۔”

“چلو، یہ بھی جھوٹ سہی۔ سچ یہ ہے کہ میں خوبصورت ہوں، بہت خوبصورت۔ میں ساری عمر تمہارے ساتھ رہ کر مزدوریاں نہیں کر سکتی۔ میں حسرتوں کے ساتھ سسک سسک کر نہیں جینا چاہتی۔ میں کسی سیٹھ کی ٹرافی وائف بن کر پرسکون اور آرام دہ زندگی گزاروں گی۔”

وہ مون گورلین کی عنبر وڈ خوشبو بکھیرتی، گوچی کا کراس باڈی بیگ لہراتی، لوباٹون کی ہائی ہیل سے ٹپ ٹپ کرتی واپس چل پڑی۔

کچھ دیر سوچ کر میں اس کے پیچھے بھاگ اٹھا۔ میں جانتا تھا کہ اس کا یہ سچ بھی سچ نہیں، جھوٹ ہے۔

ہم یورپ میں ہی سیٹل ہیں۔ لوگ کہتے ہیں “کھانڈ بنا سب رانڈ رسوئی” لیکن ہماری رسوئی میں کھانڈ نہیں ہوتی کیونکہ ہم شوگر کے مریض ہیں۔

سیّد محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے