سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے

سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے
مرے وطن کو اجاڑا ہوس کے ماروں نے

لکھے تھے خونِ جگر سے ہمارے پرکھوں نے
بدل دیئے وہ قوانیں ستم شعاروں نے

مسل رہے ہیں درندے یہاں پہ کلیوں کو
ابھی تو جن کو سنوارا نہیں بہاروں نے

بہت سے ننھے فرشتوں کو علم کے بدلے
نگل لیا ہے تعلم کے ٹھیکے داروں نے

برہنہ تن ہے یہاں پر غریب کی بیٹی
پہن رکھی ہیں نئی چادریں مزاروں نے

دھرے ہیں تخت طوائف کی ایک ٹھوکر پر
سنبھال لی ہیں یہاں کرسیاں حماروں نے

یہاں دوا ہے نہ بجلی نہ گیس نا راشن
یہ سب تو لُوٹا سیاست کے دعوے داروں نے

امیرِ شہر نے چھینی غریب کی روٹی
یہاں تو بھوک ہی بانٹی فریب کاروں نے

نیا مداری نئی ڈگڈگی تماشہ وہی
یوں بےوقوف بنایا ہمیں تو ساروں نے
منزہ سید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے