صبح ہے کوئی آہ کر لیجے

صبح ہے کوئی آہ کر لیجے
آسماں کو سیاہ کر لیجے
چشم گل باغ میں مندی جا ہے
جو بنے اک نگاہ کر لیجے
ابر رحمت ہے جوش میں مے دے
یعنی ساقی گناہ کر لیجے
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے