سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں

سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں

سیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریں

اب تو آتا ہے یہی جی میں کہ اے محو جفا

کچھ بھی ہو جائے مگر تری تمنّا نہ کریں

میں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضرور

وہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں

دردِ دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیں

آپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں

شکوۂ جور تقاضائے کرم عرض وفا

تم جو مل جاؤ کہیں ہم کو تو کیا کیا نہ کریں

نورِ جاں کے لئے کیوں ہو کسی کامل کی تلاش

ہم تری صورت زیبا کا تماشا نہ کریں

حال کھل جائے گا بیتابیِ دل کا حسرت

بار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے