سب سے بہترین گفتگو

دنیا میں سب سے بہترین گفتگو ہے رب کی اپنے بندے سے اور بندے کی اپنے رب سے, کیوں کہ جب بندہ رات کے آخری پہر میں تاریکی اور خاموشی میں اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے, وہ سناتا ہے سمیع کو اور سمیع سنتا ہے اور سنتا ہی رہتا ہے نہ بیزار ہوتا ہے, نہ تنگ آتا ہے, بس سنتا ہی رہتا ہے, یک سوئی کے ساتھ حتیٰ کہ انسان سب کچھ سنادیتا ہے_ تمام کہانیاں, روداد, قصے اور تمام خواہشات, تمنائیں, التجائیں, انسان سب کچھ اس کے آگے رکھ دیتا ہے اور وہ عظیم رب وہ جو ذات و صفات میں یکتا ہے جس کی کوئی مثل نہیں, اسے نہ صرف سنتا ہے بلکہ تسلی اور دلی اطمینان عطا فرماتا ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾
ترجمہ:
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوگیا ہے ۔
میں اکثر سوچتی ہوں اللہ تعالیٰ یہاں آپ نے بیزار کا لفظ کیوں استعمال کیا.. بات تو مکمل سمجھ آرہی تھی کہ رب نے نہیں چھوڑا لیکن آپ نے ساتھ ہی انسان کو امید دلاتے ہوئے فرمایا اور یہ یقین عطا فرمایا کہ جس دن تمام لوگ تمہاری روداد سنتے سنتے تھک جائیں, بیزار ہوجائیں تو لوٹ آنا اپنے رب کی طرف تم زندگی کے اس دن بھی اپنے رب کو منتظر اور سمیع ہی ہاؤگے_
اللہ اکبر…!
کیا اندازِ بیاں ہے, کیا الفاظ ہیں اور کس خوبصورتی سے انسان کو سمیٹا جارہا ہے اللہ اکبر…!
یہاں ایک بات مزید قابل غور ہے کہ اللہ تعالی پہلے سے جانتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ علیم ہیں اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں, وہ بخوبی واقف ہیں انسان کی فطرت سے کہ یہ ایک نہ ایک دن بیزار ہوجائے گا اپنے ہی جیسے کسی انسان سے, کیونکہ انسان اپنی برداشت کے مطابق ہی عمل اور برداشت کرسکتا ہے, وہ ایک حد تک ہی کسی کو سن اور برداشت کرسکتا ہے, اس سے آگے انسان کی نہیں_
اسلیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بیزار نہیں ہوئے, انسان اسے اعلان سمجھے, دعوت نامہ سمجھے, بلاوا سمجھے یا محبت کا اظہار, غرض وہ جو سمجھے کم ہی ہے_
اللہ سے دعا ہے ہم سب کو اخلاص کے ساتھ عمل میں استقامت عطا فرمائیں اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو
آمین
دعاگو: بریرہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے