ستارہ نُما

برگِ تازہ پرندوں
کی تفضیل کیسے بتائے
جو آئے گئے
ابر سایہ کناں ہے
تو یہ ایک منظر کی
حد تک تو بہتر
ہے پر یہ
مضافات کے
حق میں بہتر نہیں
جسطرح
چاند کے گرد ہالہ
فلک دیکھنے پر
نگاہوں کی ساری
توجہ اسی
سمت مرکوز کرلیتا ہے
اور ستارے پھر اس بے رخی پر
فلک کے وہ سارے
صفحے یوں پلٹتے ہیں
جیسے اگر ان میں
یہ بے رخی درج تھی
تو اُسے کوس لیں
جس نے
سب تک
ازل سے یہ افواہ پھیلائی
ہے کہ ستاروں میں تقدیر
لکھی گئی
برگِ تازہ بھی
باغِ سخن
میں کسی
ابر کے ہالے میں
ابر وہ جو زمینوں کی تشکیل
کے وقت ظاہر نہ تھا
ابر وہ جس نے صحرا
کے جلتے سرابوں
سے پانی اُٹھا کر
زمینوں کی تشکیل کے وقت
باطن میں یوں شعبدہ کاری کی
جس سے ظاہر
کی آنکھوں میں نم آگیا
اب پڑا ہے زمیں پر
ستارہ نما

عمران سیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے