صورت ِخواب کوئی مجھ سے بغل گیر ہوا

صورت ِخواب کوئی مجھ سے بغل گیر ہوا
پھر ہوا یوں کہ وہی حاصلِ تعبیر ہوا

رنگ کونپل کی طرح پھوٹتے دیکھا میں نے
پھر نمو پاتے ہوئے سبزہء تصویر ہوا

خشت در خشت بنے ہاتھ جو میرے بنیاد
تب کہیں جا کے محل عشق کا تعمیر ہوا

سادگی دیکھو ، اسے حاصلِ ہستی جانا
دستِ نادیدہ سے مضمون جو تحریر ہوا

ایک تنہائی مرے واسطے زندان ہوئی
ایک سناٹا مرے واسطے زنجیر ہوا

مجھ سے لکھوایا گیا خانہء اعمال مرا
پھر وہی معجزہء کاتبِ تقدیر ہوا

رات کا جسم سیہ شال میں جو لپٹا تھا
صبح ہوتے ہی وہی صورتِ تنویر ہوا

میں سمجھتی تھی محبت کا صحیفہ جس کو
اپنے عنوان کے برعکس وہ تفسیر ہوا

گمرہی پیروں سے باندھی ہوئی رسی تھی کوئی
جس کا ہر تارِ گماں باعثِ تاخیر ہوا

نام لیتا ہی نہیں شازیہ حل ہونے کا
مسئلہ عشق کا بھی قصہء کشمیر ہوا

شازیہ اکبر
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے