سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی

سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
یہ دم قدم ہمارا غنیمت ہے شہر میں

عذابِ خواہشِ تعمیر لے کے اُترا ہے
وہ میرے خواب میں تعبیر لے کے اُترا ہے

میں خالی ہاتھ ہوں اور دیکھتا ہوں میرے خلاف
مرا عدو ، مری شمشیر لے کے اُترا ہے

سفر کے بوجھ تلے خود کو کھینچتا ہوا دن
مری ہتھیلی پہ تاخیر لے کے اُترا ہے

یہ کیسا دشت ہے جس کی جڑوں کا سنّاٹا
تمام شہر پہ تعزیر لے کے اُترا ہے

لہو جمی ہوئی آنکھوں میں وقت کا پنچھی
جو کھو گئی تھی وہ تصویر لے کے اُترا ہے

عزیز نبیل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے