سورج کے رخ پر آ جانا پڑتا ہے

سورج کے رخ پر آ جانا پڑتا ہے
سائے کو اوقات میں لانا پڑتا ہے

کہنے کو کچھ دور نہیں تیرا گاؤں
لیکن راہ میں ایک زمانہ پڑتا ہے

کوئی مسافر ایسا بھی آ جاتا ہے
منزل کو خود چل کر آنا پڑتا ہے

لوگوں کے دکھ درد اپنانے کی خاطر
اپنے دامن کو پھیلانا پڑتا ہے

دولت جب رشتوں سے بھاری ہو جائے
پیار کے پنچھی کو اڑ جانا پڑتا ہے

آوازوں کے جنگل میں جب کھو جاؤں
مجھ کو پھر شور مچانا پڑتا ہے

تھوڑی دیر کو دھول اڑا کر بالآخر
مٹی کو اوقات میں آنا پڑتا ہے

ہونے کا احساس نہیں کرتی دنیا
ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے

اس شہرِ خوش پوش پرستوں میں دلشاد
کیسا کیسا روپ بنانا پڑتا یے

دلشاد احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے