سولر سسٹم

سولر سسٹم

سائنس دان یہی کہتے ہیں
صدیوں پہلے ، جانے کب سے
دھرتی تھی سورج کا حصّہ
پھر اِک سانحہ ایسا گزرا
وقت نے اِس کو
اصل وجود سے کاٹ دیا اور
تنہائی کی کھلی فضا میں چھوڑ دیا
لیکن دھرتی کے بھیتر میں
عشق و وفا بیدار ہوئے
سورج سے اِک دُوری پر بھی
اس نے رشتہ قائم رکھا
گویا وجودِ اصل سے اُس نے
اپنا تعلق جوڑ لیا
روز و شب کے ہنگامے کو
ایک مدار کے نام کیا
پیار میں صبح کو شام کیا
لمحوں کے پیکر نے خود کو
بارہا اِک دوجے سے بدلا
چاروں اوَر نہ جانے کتنے
سانحے ابھرے، حادثے پھوٹے
دھرتی کے بھیتر میں کتنے طوفاں اُٹھے
عرصۂ ہجر کی ویرانی میں
اس کے بدن پر نقش بھی ابھرے
دُکھ کی چادر اوڑھ لی، لیکن
دھرتی اپنا اصل نہ بھولی
سورج دیوتا من میں بسائے
ماتھے پر سیندور سجائے
عشق و وفا کے ایک مدار پہ
لہراتی ،مسکاتی جائے
ہجر میں وصل کے خواب سجائے
دھرتی پیار نبھائے
دھرتی کی یہ پیار کہانی
عشق و وفا کی امر نشانی
تُو بھی میرا سورج ساجن!
میں ہوں تیری دھرتی
صدیوں پہلے
میں بھی تیرا حصّہ تھی
وقت کی گردش نے مجھ کو بھی
اپنی اصل سے کاٹا
یعنی تُجھ سے دُور کیا
ساجن! اپنی اصل سے کٹنا
کیسا ادھورا کر دیتا ہے
میں نے اپنی اصل سے رشتہ قائم رکھا
ہجر کے صدمے سہتی ،وصل کے خواب سجاتی
روز و شب کے ہنگاموں کو ایک مدار کے نام کیا
تُجھ کو سورج جانا
تیرے طواف کو اپنا نصب العین کیا
عرصۂ ہجر کے زنداں میں بھی
عشق و وفا کے دیپ جلے ہیں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے