سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں

سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں
یہ بھی اچھا ہے کہ غم ہجر کے پھیلے نہیں ہیں
نیم خوابیدہ سی آنکھوں میں شبیہیں بنتے
میرے تکیے پہ پڑے خواب بھی سوتے نہیں ہیں
تو ہے سورج تیرا ڈھل جانا سمجھ میں آیا
بادلوں میں بھی چمتکار تو ہوتے نہیں ہیں
ورنہ تو وقت کا دریا ہی بہا لے جاتا
ہم تیری یاد کی پگڈنڈی پہ بیٹھے نہیں ہیں
میرے محبوب تیرا فیصلہ سر آنکھوں پر
ہم خفا خود سے ہیں تم سےتو روٹھے نہیں ہیں
ایک ہی پل میں تشت از بام ہوا رازِ دروں
ورنہ تو خوابوں میں بھی بندِ قبا کھلتے نہیں ہیں
کیا یہ ممکن ہے کہ اک زرہ پلٹ دے دنیا
ہم سبھی خاک بسر خاک سے ملتے نہیں ہیں
اپنی ہی ذات کے اہرام سے باہر نہ گئے
کیسے کہہ دیں کہ تماشے کو سمجھتے نہیں ہیں
ہم سے ٹکرا کے بھلا موت کو کیا لینا ہے
سینچ کے رکھتے ہیں غم دنیا کو دیتے نہیں ہیں
آسناتھ کنول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے