سوچتا ہوں کہ اب مَیں حد کر دوں

سوچتا ہوں کہ اب مَیں حد کر دوں
تم کو یکسر بھلا دوں رد کر دوں
تم مجھے بھول کیوں نہیں جاتے
گر کہو تو مَیں کچھ مدد کر دوں
جونہی میں چپ ہوا تو دل نے کہا
اس خموشی کو تا ابد کر دوں
اس محبت میں کچھ مسائل ہیں
اس میں کچھ تھوڑی رد و کد کر دوں
آئینہ دیکھتا ہی رہ جائے
اور میں آئنے کو رد کر دوں
تم خرد میں جنوں کا سوچتے ہو
مَیں جنوں کو اگر خرد کر دوں
منحصر ہے مری طبیعت پر
اپنی حد میں رہوں یا حد کر دوں
اب ضروری ہے تم مِلو مجھ سے
اس ضرورت کو میں اشد کر دوں
پے بہ پے صورتوں کی الجھن میں
سر بہ سر خال و خد کو رد کر دوں
شعر کہنے پہ آؤں زیبؔ تو مَیں
ایک اک لفظ کو سند کردوں
اورنگ زیبؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے