Soch Ki Lehrein

سوچ کی لہریں

سوال یہ ھے کہ آپ کی سوچ کتنی قوت سے مطلوبہ ہدف کی طرف بڑھتی ھے
آپ کی سوچ کی رفتار کیا ھے ؟
آپ کی سوچ کس حد تک جا سکتی ھے ، کتنی گہری ھے ؟
اگر آپ سطحی سوچ کے مالک ہیں ، ذہن پر زیادہ زور ڈالنے کے عادی نہیں تو آپ کبھی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جہاں تک میں پہنچ چکا ہوں

پروفیسر نے دعوے کے ساتھ کہا

آپ کہاں تک پہنچے ہوۓ ہیں ،، کچھ بتائيں گے ،،؟ کچھ بتائيں گے پروفیسر صاحب ؟؟؟ ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا .

بہت اچھا سوال ھے پروفیسر نے پر اعتماد مسکراہٹ سے سوال پوچھنے والے کی طرف دیکھا

میں کہاں تک پہنچا ہوں  اس کیلیۓ میں چند نمونے آپ کو دکھا سکتا ہوں ،، مثلا میں صرف سوچ کر بتا سکتا ہوں کہ اس وقت صدر ابامہ کیا کر رھے ہیں ، آیا کہ وہ بیٹھے ہوۓ ہیں ، چل رھے ہیں یا سو رھے ہیں
میں صرف سوچوں گا کہ میرے گھر کے باہر روڈ پر اس وقت کونسی گاڑی گزر رہی ھے ، کوئی ، کار ، ٹرک ،بس ،سائیکل ؟
اور بالکل درست جواب بتا دوں گا ،، کیونکہ میری سوچ کی لہریں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ وہ چشم زدن میں اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف بڑھتی ہیں اور پھر اس کا اچھی طرح معائینہ کر کے واپس لوٹ آتی ہیں

سننے والوں کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے

اسی وقت فون کی تیز گھنٹی بجی
پروفیسر نے برا مناۓ بغیر فون رسیو کرلیا ،،، اسے توقع تھی کہ کسی کا فون ضرور آۓ گا

فون اس کے لنگوٹیۓ دوست کا تھا ،، چھوٹتے ہی بولا ، ابے خبطی پروفیسر کیا بول رہا ھے ٹی وی پر کہ صرف سوچ کر ہر چيز بتا دے گا ،، ابے اتنی لمبی لمبی کیوں چھوڑ رہا ھے

پروفیسر اپنے دوست کی بات سن کر زور سے ہنسا ، اس نے ریموٹ سے ٹی وی کا والیم سائلنٹ پہ کیا اور بولا

یار میں خود بھی اپنا انٹرویو سن رہا ہوں اور قسم اللہ کی ایک ایک بات سچ ھے

اچھا دوسری طرف لنگوٹیا سوچ میں پڑ گیا
چل ذرا سوچ کر بتا کہ میں اس وقت کھڑا ہوں ، لیٹا ہوں کہ بیٹھا ہوں ؟

لنگوٹیے دوست سے صبر نہ ہوا اور اس نے اسی وقت پروفیسر کا ٹیسٹ لینا چاہا پروفیسر نے ایک لمحے کیلیۓ سوچا ،، پھر کہا ،،، دوست تو اس وقت کھڑے ہو کر بات کر رہا ھے

دوسری طرف خاموشی چھا گئی ،،اور کال کٹ گئی

پروفیسر نے ٹی وی کا والیم کھولا اور اپنی گفتگو ایک بار پھر نہایت دلچسپی سے سننے لگا

اب وہ کہہ رہا تھا ، کہ سوچ کی لہریں ایسی شخصیات سے بھی ٹکرا جاتی ہیں جنہیں ہماری آنکھ کی بینائی نہیں دیکھ سکتی ، مثال کے طور پر جن ، بھوت ، آتما ،یا کوئی آسیب

اگر آپ کے گھر میں کوئی آسیب ھے تو میری سوچ کی لہریں ذرا سی آہٹ پاتے ہی اس کی طرف دوڑيں گی اور مجھے بتا دیں گی کہ وہ آسیب کتنا بڑا ھے اور گھر کے کس کمرے میں ھے

دھپ دھپ دھپ

اچانک پروفیسر کو آہٹ محسوس ہوئی ،، اس نے فوری طور پر ٹی وی کو آف کر دیا
اس کے کان کھڑے ہو گئے تھے

دھپ ، دھپ ، دھپ

پھر آواز آئی ،، یہ آواز اس کے گھر کی بالائی منزل کی چھت سے آئی تھی ،، بالائی منزل ایک عرصے سے ویران تھی پروفیسر کو نئے کراۓ دار نہیں مل رھے تھے ،،، اس لیۓ وہ اوپر تالا لگا کر بھول چکا تھا کہ تین کمرے اوپر بھی ہیں

دھپ ، دھپ ، دھپ

پھر آواز آئی

آخر یہ کون ہو سکتا ھے
پروفیسر خوفزدہ ہوگیا- لیکن جیسے ہی اس نے سوچا کہ کون ہو سکتا ھے ،، اس کی سوچ برق رفتاری سے سیڑھیاں چڑھ گئی اور مضبوطی سے بند دروازے سے گزرتی ہوئی اس ہستی سے ٹکرا گئی ،،جس کے پاؤں بڑے بڑے تھے ،دھپ دھپ کی آواز کے ساتھ وہ ادھر ادھر چل رہا تھا
سوچ کی لہروں نے بتایا کہ اس کے ہاتھ بھی غیر معمولی لمبے ہیں ،،، اور وہ خود کسی ریچھ کی طرح بھاری بھرکم ھے

پروفیسر چکرا کر صوفے پر گر گیا
آسیب  بالائی منزل پر کسی آسیب نے قبضہ جما لیا تھا

اب وہ کیا کرے ،، پروفیسر نے گھبرا کر سوچا ،،، پھر اس نے اٹھ کر فریج سے بوتل نکالی اور اپنے اعصاب بحال کرنے لگا ،،
آدھی بوتل پی جانے کے بعد اس کا حوصلہ لوٹ آیا – مجھے عام لوگوں کی طرح گھبرانے کی ضرورت نہیں – اس نے خود سے کہا ،، میں اسے نکال باہر کروں گا ،، کیونکہ میں اسے دیکھ رہا ہوں – وہ میری سوچ کی لہروں سے نہیں بچ سکتا

اس نے اسٹور سے لوھے کا ایک راڈ ڈھونڈ نکالا – اور سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ سوچا کہ آسیب اس وقت کہاں ھے اور کیا کر رہا ھے ؟ آن کی آن میں اسے جواب مل گیا

آسیب اس وقت پہلے ہی کمرے کی چھت سے چپکا ہوا تھا

پروفیسر نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی اور بالائی منزل پر پہنچ کر ڈور لاک میں چابی گھما دی
مگر اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا دو لمبے لمبے ہاتھوں نے اسے زور سے دھکا دیا ،، پروفیسر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اس کے ہاتھوں سے لوھے کا راڈ ایک زور دار آواز سے فرش پر گرا اور وہ خود سیڑھیوں سے لڑھکتا ہوا نیچے آن گرا

صبح سب سے پہلے اس کے لنگوٹیا یار نے دروازے پر دستک دی اور دروازہ کھلا پا کر اندر داخل ہو گیا

لیکن مکان کے اندر آتے ہی اسے ایک روح فرسا منظر دیکھنے کو ملا

اس کے دوست پروفیسر کے سر سے خون بہہ بہہ کر چاروں طرف پھیلا ہوا تھا- مگر اس کھلی ہوئی آنکھیں اب بھی کسی گہری سوچ میں غرق تھیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے