سو طرح کے اٹھنے والے وسوسے ہیں مسئلے

سو طرح کے اٹھنے والے وسوسے ہیں مسئلے
آپ کے جو مسئلے ہیں مسئلے ہیں مسئلے
دنیا داری کے اگر ہم مسئلے سلجھا بھی لیں
دل کی دنیا کے بہت الجھے ہوئے ہیں مسئلے
جب سے تم کو میں نےاپنا کہہ دیا ہے بر ملا
ہائے مجھ کو پھن اٹھاکر ڈس رہےہیں مسئلے
وصل میں تو خیر تھوڑا جی بہل جاتا ہے ، پر
ہجر خود اک مسئلہ ہے ہجر کے ہیں مسئلے
دل کے سارے مسئلے تو حل نہیں ہوتے کبھی
کچھ پرانے مسئلے ہیں کچھ نئے ہیں مسئلے
ہم نے تجھ کو چھوڑ کر دیکھا ہے لیکن یہ ہوا
اب تری یادوں کے دل پر اٹھ گئے ہیں مسئلے
آج ماں کی گود میں سر میں نے عشبہ رکھ دیا
آج مجھ سے خوف کھاتے جارہے ہیں مسئلے
عشبہ تعبیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے