سلِیپ ڈِس آرڈر

تو پھر سے سرد رات نے

پٹخ دیا ہے نیند کو

پھٹی پھٹی نگاہ میں

خمار کا

ذرا بھی شائبہ نہیں

نہ گرد خواب کا گماں

کسی خیال کا دھواں

یہ میں ہوں اور

وقت کی منڈیر سے

تھکے تھکے خموش پل

پھسل رہی ہیں ساعتیں

سکوتِ دل کو راحتیں

نہ رنج کی شکایتیں

سمیٹتی ہے رات کچھ

مسافتوں کی بے بسی

بہت سپاٹ زندگی

اُچاٹ دل میں خیمہ زن

کوئی ملال بھی نہیں

شب سیاہ کی نظر سے جھانکتا

کوئی سوال بھی نہیں

ملال کوئی ہے اگر

پسِ شعور

وقت کی صلیب پر

جھکا ہوا

سوال کوئی ہے اگر

برونِ سطح آب کو

ابھی سے اس کی کیا خبر …

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

اندھی اُلفت کی بے تاب سی سرخوشی

دوڑتی ہے مرے جسم میں

بے بیاں وصل کی لذتیں

میرے احساس میں گل کھلاتی ہیں

شب کچھ ڈھلکتی ہے

اور ساتھ ہی

میری پلکیں بھی

خواب اور خواہش کی آغوش میں

ڈھلکی ڈھلکی سی ہیں

پر اچانک کہیں جاگتی ہے کوئی کپکپی

خوف کی زد میں آئے ہوئے

جان و دل

اِک کماں ایسے کھنچتے چلے جاتے ہیں

ایک سایہ کھرچتی ہوں اپنے بدن سے مگر

ایسا ممکن نہیں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

مجھ سے آ کے یہ کہتی ہے

اترو مری تیرگی میں جہاں

کوئی روزن نہیں

کوئی رستہ نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

رات کٹتی نہیں

کیسا حیلہ کروں

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے