سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا

سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا
ابھی حیات کا ہے بوجھ دوش پر آدھا

کسی اداس پرندے کا اس پہ مسکن تھا
بہار رت میں جو سوکھا رہا شجر آدھا

کوئی خوشی بھی ملی تو مجھے ادھوری ملی
فلک سے رزق بھی نازل ہوا مگر آدھا

فریبِ چشم ہے یا وسعتِ بصیرت ہے
ہر آدمی مجھے آنے لگا نظر آدھا

ابھی سے بام پہ کیوں برق یہ چمکتی ہے
ابھی تو میں نے بنایا ہے اپنا گھر آدھا

مرے قریب ہے اور میری دسترس میں نہیں
مری دعا کا ہوا ہے ابھی ا ثر آدھا

عزائی شب کے اندھیرے سے خوف آتا ہے
چراغ جلنے سے کم ہو گیا ہے ڈر آدھا

(اعجاز عزائی)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے