ستارے سے ستارا مل رہا ہے

ستارے سے ستارا مل رہا ہے
ترا آنا ضروری ہو گیا ہے
طلسمی شہر ہے یہ تیری دنیا
جو آیا ہے یہیں پر رہ گیا ہے
بدلنا چاہتے ہو مجھ کو تم لوگ!؟
بتاؤ مجھ میں ایسا کیا بُرا ہے!؟
زرا سی دیر کا رستہ ہے تم تک
اسی امید پر دل چل رہا ہے
گلی میں تاش کھیلی جا رہی ہے
خدا بادل پہ بیٹھا دیکھتا ہے
سبھی پھولوں کو مشکل پڑ گئی ہے
وہ جب سے باغ میں آیا ہوا ہے
کوئی سایہ ہے جو صبح سویرے
ہماری سیڑھیوں میں بیٹھتا ہے
کہاں سنتا ہے کوئی گھر میں اُس کی
وہ پاگل ہے مسلسل بولتا ہے
نظر آتا نہیں تجدید لیکن
کوئی میرے برابر میں کھڑا ہے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے