ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی

ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی
نہیں جاتی نظر کی فتنہ سامانی نہیں جاتی

نمود جلوۂ بے رنگ سے ہوش اس قدر گُم ہیں
کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

پتہ ملتا نہیں اب آتشِ وادیِ ایمن کا
مگر مینائے مے کی نور افشانی نہیں جاتی

مگر اک مشتِ پر کی خاک سے کچھ ربط باقی ہے
ابھی تک شاخِ گل کی شعلہ افشانی نہیں جاتی

چمن میں چھیڑتی ہے کس مزے سے غنچہ و گُل کو
مگر موجِ صبا کی پاک دامانی نہیں جاتی

اڑا دیتا ہوں اب بھی تار تارِ ہست و بود اصغر
لباسِ زہد و تمکیں پر بھی عریانی نہیں‌ جاتی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے