ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں‌ یہ رسمیں
وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا
لیئے تو چلتے ہیں‌حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں‌لیکن
ہمارے پہلو میں‌بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
نہیں ہے کچھ قتل انکا آسان یہ سخت جان ہیں‌ بڑے بلا کے
قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنے خوشی نہ کرنا
داغ دہلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے