صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے

صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
ہم نے دیکھا نہیں زندگی کی طرف
رات ڈھلتے جب ان کا خیال آگیا
ٹکٹکی بندھ گئی چاندنی کی طرف
کون سا جرم کیا ، کیا ستم ہو گیا
آنکھ اگر اٹھ گئی آپ ہی کی طرف
جانے وہ ملتفت ہوں کدھر بزم میں
آنسوؤں کی طرف، یا ہنسی کی طرف
احسان دانش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے