سرِ بازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے

سرِ بازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے
مرے لوگوں کو دکھ اپنے دکھائی اب نہیں دیتے
سرِ محشر کوئی خلقِ خدا سے کیا نباہے گا
یہاں ملزم خود اپنی بھی صفائی اب نہیں دیتے
کبھی چشمِ شناسا کی طرح جو ہنس کے ملتے تھے
وہ آئینے بھی دادِ آشنائی اب نہیں دیتے
جو منظر تھے وہ پس منظر میں پنہاں ہوتے جاتے ہیں
تماشے میں تماشائی دکھائی اب نہیں دیتے
ہماری سرحدوں سے شہ رگوں تک آن پہنچے ہیں
محافظ اپنے پنجوں سے رہائی اب نہیں دیتے
گِلہ کس کس کی رخصت کا سعید اس دشت میں کیجئے
ہمیں خود اپنے سائے بھی دکھائی اب نہیں دیتے
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے