صبغے اینڈ سنز

صبغے اینڈ سنز
سوداگران و ناشران کتب

یہ اس پر امید زمانے کا ذکر ہے جب انہیں کتابوں کی دکان کھولے اور ڈیل کار نیگی پڑھے دوتین مہینے ہوئے ہوں گے اور جب ان کے ہونٹوں پر ہر وقت وہ دھلی منجھی مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی، جو آج کل صرف ٹوتھ پیسٹ کے اشتہاروں میں نظر آتی ہے۔ اس زمانے میں ان کی باتوں میں وہ اڑ کر لگنے والا جوش اور ولولہ تھا جو بالعموم انجام سے بے خبر سٹے بازوں اور نو مسلموں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

دکان کیا تھی، کسی بگڑے ہوئے رئیس کی لائبریری تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے چن چن کر وہی کتابیں دکان میں رکھی ہیں، جو خود ان کو پسند تھیں اور جن کے متعلق انہوں نے ہر طرح اپنا اطمینان کر لیا تھا کہ بازار میں ان کی کوئی مانگ ہے نہ کھپت۔ ہمارے دوست مرزا عبدا لودودبیگ نے دکان میں قدم رکھتے ہی اپنی تمام نا پسندیدہ کتابیں اس خوش سلیقگی سے یکجا دیکھیں تو ایک دفعہ اپنی پرانی عینک پر اعتبار نہیں آیا اور جب اعتبار آگیا تو الٹا پیار آنے لگا۔ اپنے مخصوص کھٹ مٹھے لہجے میں بولے یار! اگر عام پسند کی بھی دو چار کتابیں رکھ لیتے تو گاہک دکان سے اس طرح نہ جاتے جیسے سکندر دنیا سے گیا تھا… دونوں ہاتھ خالی!‘‘

تاجرانہ تبسم کے بعد فرمایا،’’میں صرف معیاری کتابیں بیچتا ہوں۔‘‘

پوچھا، ’’معیاری کی کیا پہچان ؟‘‘

ارشاد ہوا، ’’سنو! میرے ایک قریبی ہمسائے ہیں۔ پروفیسر قاضی عبدالقدوس ، چوبیس گھنٹے کتابوں میں جٹے رہتے ہیں۔ لہذا میں نے کیا یہ کہ دکان کھولنے سے پہلے ان سے ان کی اپنی پسندیدہ کتابوں کی مکمل فہرست بنوالی۔ پھر ان کتابوں کو چھوڑ کر اردو کی بقیہ تمام کتابیں خرید کے دکان میں سجا دیں۔ اس اس سے بہتر انتخاب کوئی کر کے دکھا دے۔‘‘

پھر ایکا ایکی تاجرانہ لہجہ بنا کر صیغۂ جمع میں ہنکارے، ’’ہماری کتابیں اردو ادب کی آبرو ہیں۔‘‘

’’اور ہم یہ بہت ارزاں بیچتے ہیں!‘‘ مرزا نے اسی لہجے میں جملہ پورا کیا۔

مصیبت یہ تھی کہ ہر کتاب، ہر مصنف کے متعلق ان کی اپنی رائے تھی۔ بے لاگ اور اٹل، جس کا اظہار و اعلان بالجبر و بمنزلہ دینی فرض سمجھتے تھے۔ چنانچہ بارہا ایسا ہوا کہ انہوں نے گاہک کو کتاب خریدنے سے جبرا! باز رکھا کہ اس سے اس کا ادبی ذوق خراب تر ہونے کا اندیشہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کتب فروش کم اور کتب نما زیادہ تھے۔ کبھی کوئی خریدار ہلکی پھلکی کتاب مانگ بیٹھتا تو بڑی شفقت سے جواب دیتے، ’’یہاں سے دو گلیاں چھوڑ کر سیدھے ہاتھ کو مڑ جائیے۔ پر لے نکڑ پر چوڑیوں کی دکان کے پاس ایک لیٹر بکس نظر آئے گا۔ اس کے ٹھیک سامنے جو اونچی سی دکان ہے بچوں کی کتابیں وہیں ملتی ہیں۔‘‘ ایک مرتبہ کا واقعہ اب تک یاد ہے کہ ایک صاحب کلیات مومن پوچھتے ہوئے آئے اور چند منٹ بعد مولوی محمد اسماعیل میرٹھی مرحوم کی نظموں کا گلدستہ ہاتھ میں لئے ان کی دکان سے نکلے۔

ایک دن میں نے پوچھا اختر شیرانی کی کتابیں کیوں نہیں رکھتے؟ مسکرائے۔ فرمایا، وہ نابالغ شاعر ہے۔ میں سمجھا شاید Minor poet کا وہ یہی مطلب سمجھتے ہیں۔ میری حیرانے دیکھ کر خود ہی وضاحت فرما دی کہ وہ وصل کی اس طور پر فرمائش کرتا ہے گویا کوئی بچہ ٹافی مانگ رہا ہے۔ اس پر میں نے اپنے ایک محبوب شاعر کا نام لے کر کہاکہ بچارے ہوش خلیج آبادی نے کیا خطا کی ہے؟ ان کے مجموعے بھی نظر نہیں آتے۔ ارشاد ہوا کہ اس ظالم کے تقا ضائے وصل کے یہ تیور ہیں گویا کوئی کابلی پٹھان ڈانٹ ڈانٹ کر ڈوبی ہوئی رقم وصول کر رہا ہے۔ میں نے کہا مگر وہ زبان کے بادشاہ ہیں۔ بولے، ٹھیک کہتے ہو۔ زبان ان کے گھر کی لونڈی ہے اور وہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے ہیں!عاجز ہو کر میں نے کہا اچھا یوں ہی سہی، مگر فانی بدایونی کیوں غائب ہیں؟ فرمایا، ہش! وہ نرے مصور غم ہیں! میں نے کہا، بجا! مگر مہدی الافادی تو کامل انشاء پرداز ہیں۔ بولے، چھوڑو بھی! فانی مصور غم ہیں تو مہدی مصور بنت عم! واللہ! وہ انشائیہ نہیں، نسائیہ لکھتے ہیں۔ بالآخر میں نے ایک جانے پہچانے پروفیسر نقاد کا نام لیا، مگر پتہ چلا کہ انہوں نے اپنے کانوں سے فاضل پروفیسر کے والد بزرگوار کو لکھنو کو نکھلؤ اور مزاج شریف کو مجاز شریف کہتے سنا تھا۔ چنانچہ اس پدرانہ نا اہلی کی بنا پر ان کے تنقیدی مضامین دکان میں کبھی بار نہ پا سکے۔ یہی نہیں خود پروفیسر موصوف نے ایک محفل میں ان کے سامنے غالب کا ایک مشہور شعر غلط پڑھا او ر دوہرے ہو ہو کر داد وصول کی، سو الگ! میں نے کہا اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بولے، فرق کی ایک ہی رہی! میرن صاحب کا قصہ بھول گئے؟ کسی نے ان کے سا منے غالب کا شعر غلط پڑھ دیا، تیوریاں چڑھا کر بولے، میاں! یہ کوئی قرآن و حدیث ہے۔ جیسے چاہا پڑھ دیا۔

آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ بہت سی کتابیں وہ اس لئے نہیں رکھتے تھے کہ ان کو سخت نا پسند تھیں اور ان کے مصنفین سے وہ کسی نہ کسی موضوع پر ذاتی اختلاف رکھتے تھے لیکن معدودے چند مصنفین جو اس معتوب و مغضوب زمرے سے خارج تھے، ان کی کتابیں دکان میں رکھتے ضرور تھے، مگر کوشش یہی ہوتی کہ کسی طرح بکنے نہ پائیں، کیونکہ وہ انہیں بے حد پسند تھیں اور انہیں سگنو اسنگوا کر رکھنے میں عجیب روحانی لذت محسوس کرتے تھے۔ پسند و ناپسند کی اس غیر تاجرانہ کشاکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ،کتب از جا نہ جنبد!

سنی سنائی نہیں کہتا۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دیوان غالب (مصور) دکا ن میں مہینوں پڑا رہا۔ محض اس وجہ سے ان کا خیال تھا کہ دکا ن اس کے بغیر سونی سونی معلوم ہوگی۔ مرزا کہا کرتے تھے کہ ان کی مثال اس بد نصیب قصاب کی سی ہے، جسے بکروں سے عشق ہو جائے۔

کتابوں سے عشق کا یہ حال تھا کہ عین بوہنی اور بکری کے اوقات میں بھی مطلاعے میں کمر کمر غرق رہتے۔ یہ کمر کمر کی قید اس لئے لگانا پڑی کہ ہم نے آج تک انہیں کوئی کتاب پوری پڑھتے نہیں دیکھا۔ مرزا! اسی بات کو یوں کہتے تھے کہ بہت کم کتابیں ایسی ہے جواپنے کو ان سے پڑھوا سکی ہیں۔ یہی نہیں، اپنے مطالعے کی تکنیک کے مطابق رومانوی اور جاسوسی ان کو ہمیشہ الٹا یعنی آخر سے پڑھتے تاکہ ہیروئن کا حشر اور قاتل کا نام فوراً معلوم ہو جائے۔ ان کا قول ہے کہ معیاری ناول وہی ہے جو اس طرح پڑھنے پر بھی آخر سے شروع تک دلچسپ ہو۔ ہر کہیں سے دو تین صفحے الٹ پلٹ کر پوری کتاب کے متعلق بے دریغ رائے قایم کر لینا اور پھر اسے منوانا ان کے بائیں ہاتھ کاکھیل تھا۔ بعض اوقات تو لکھائی چھپائی دیکھ کر ہی ساری کتاب کا مضمون بھانپ لیتے۔ مجھے یاد ہے کہ اردو کی ایک تازہ چھپی ہوئی کتاب کا کاغذ اور روشنائی سونگھ کر نہ صرف اسے پڑھنے بلکہ دکان میں رکھنے سے بھی انکار کر دیا۔ ان کے دشمنوں نے اڑا رکھی تھی کہ وہ کتاب کا سرورق پڑھتے پڑھتے اونگھنے لگتے ہیں اور اس عالم کشف میں جو کچھ دماغ میں آتا ہے، اس کو مصنف سے منسوب کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس سے بیزار ہو جاتے ہیں۔

اور مصنف غریب کس شمار قطار میں ہیں۔ اپنے ادبی قیاس و قیافے کا ذکر کرتے ہوئے ایک دن یہاں تک ڈٰنگ مارنے لگے کہ میں آدمی کی چال سے بتا سکتا ہوں کہ وہ کس قسم کی کتابیں پڑتھا رہا ہے۔ اتفاق سے اس وقت ایک بھرے بھرے پچھائے والی لڑکی دکان کے سامنے سے گزری۔ چینی قمیض اس کے بدن پر چست فقرے کی طرح کسی ہوئی تھی۔سر پر ایک ربن سلیقے سے اوڑھے ہوئے جسے میں ہی کیا، کوئی بھی شریف آدمی، دوپٹہ نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ دوپٹہ کبھی اتنا بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ تنگ موری اور تنگ تر گھیر کی شلوار۔ چال اگر چہ کڑی کمان کا تیر نہ تھی، لیکن کہیں زیادہ مہک۔ کمان کتنی بھی اتری ہوئی کیوں نہ ہو، تیر لا محالہ سیدھا ہی آئے گا۔ ٹھمک ٹھمک کر نہیں، لیکن وہ قتالہ عالم قدم آگے بڑھانے سے پہلے ایک دفعہ جسم کے درمیانی حصے کو گھنٹے کے پدوم کی طرح دائیں بائیں یوں ہلاتی کہ بس چھری سی چل جاتی۔ نتیجہ یہ کہ متذکرہ حصہ جسم نے جتنی مسافت جنوب سے شمال تک طے کی، اتنی ہی مشرق سے مغرب تک۔ مختصر یوں سمجھئے کہ ہر گام پر ایک قدم آدم صلیب بناتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔

’’اچھا، بتاؤ، اس کی چو مکھی چال سے کیا ٹپکتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’اس کی چال سے تو بس اس کا چال چلن ٹپکے ہے۔‘‘ مجھے آنکھ مار کر لہکتے ہوئے بولے۔

’’پھر وہی بات! چال سے بتاؤ کیسی کتابیں پڑھتی ہے؟‘‘ میں نے بھی پیچھا نہیں چھوڑا۔

’’پگلے! یہ تو خود ایک کتاب ہے!‘‘ انہوں نے شہادت کی انگلی سے سڑک پر ان خواندگان کی طرف اشارہ کیا جو ایک فرلانگ سے اس کے پیچھے پیچھے فہرست مضامین کا مطالعہ کرتے چلے آرہے تھے۔

دیکھا گیا ہے کہ وہی کتب فروش کامیاب ہوتے ہیں جو کتاب کے نام اور قیمت کے علاوہ اور کچھ جاننے کی کو شش نہیں کرتے۔ کیونکہ انکی نا واقفیت عامہ جس قدر وسیع ہوگی، جس قدر عمیق اور متنوع ہوگی، اتنی ہی بھر پور خود اعتمادی اور معصوم گمراہی کے ساتھ وہ بری کتاب کو اچھا کر کے بیچ سکیں گے۔ اس کے بر عکس کتابیں پڑھتے پڑھتے(ادھوری ہی سہی) ہمارے ہیرو کو اسلامی ناولوں کے جوشیلے مکالمے حفظ ہو گئے تھے اور بغدادی جم خانے میں کبھی ویسی وہسکی کی زیادتی سے موصوف پر ہذیانی کیفیت طاری ہو جاتی تو دشمنان اسلام پر گھونسے تان تان کر تڑاق پڑاق ایسے ڈائیلاگ بولتے، جن سے شوق شہادت اس طرح ٹپکا پڑتا تھا کہ پیروں تک ایمان تازہ ہو جاتا ۔مسلسل ورق گردانی کے سبب نئی نویلی کتابیں اپنی کنواری کراری مہک اور جلد کی کساوٹ کھو چکی تھیں۔ بیشتر صفحات کے کونے کتے کے کانوں کی طرح مڑ گئے تھے اور بعض پسندیدہ اوراق کی یہ کیفت تھی کہ،

جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر گزرا اور لشکر بھی وہ جو خون کی بجائے پیک کی چھینٹیں اڑاتا ہوا گزر جائے! ایک مرتبہ ان کو بھرے دکان میں اپنے ہی سا ئز کے ایک اسلامی ناول کا عطر نکالتے دیکھا تو مزرا نے ٹوکا، ’’لوگ اگر کسی حلوائی کو مٹھائی چکھتے دیکھ لیں تو اس سے مٹھائی خریدنی چھوڑ دیتے ہیں اور ایک تم ہو کہ ہر آئے گئے کے سامنے کتب چشی کرتے رہتے ہو!‘‘

پھر کیا تھا، پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے، پھٹ پڑے، ’’کتب فروشی ایک علم ہے، بر خوردار! ہمارے ہاں نیم جاہل کتابیں لکھ سکتے ہیں، مگر بیچنے کے لئے باخبر ہونا ضروری ہے۔ بعینہ اسی طرح جیسے ایک اندھا سرمہ بنا سکتا ہے مگر بیچ بازارمیں کھڑے ہو کر بیچ نہیں سکتا۔ میاں! تم کیا جانو!کیسے کیسے جید جاہل سے پالا پڑتا ہے (اپنی عزیز ترین کتاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) جی میں آتی ہے، دیوان غالب (مع مقدمہ مولانا امتیاز علی عرشی) ان کے سر پر دے ماروں۔ تمہیں یقین نہیں آئے گا۔ دو ہفتے ہونے کو آئے۔ ایک مظلوم صورت کلرک یہاں آیا اور مجھے اس کونے میں لے جا کر کچھ شرماتے، لجاتے ہوئے کہنے لگا کہ کرشن چندر ایم اے کی وہ کتاب چاہئے، جس میں ’تیرے ماں کے دودھ میں حکم کا اکا‘‘ والی گالی ہے۔ خیر، اسے جانے دو کہ اس بچارے کو دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا تھا کہ یہ گالی سامنے رکھ کر ہی اس کی صورت بنائی گئی ہے۔ مگر ان صاحب کو کیا کہوگے جو نئے نئے اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے ہیں۔ میرے واقف کار ہیں۔ اسی مہینے کی پہلی تاریخ کو کالج میں پہلی تنخواہ وصول کر کے سیدھے یہاں آئے اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ لگے پوچھنے، صاحب! آپ کے ہاں منٹو کی وہ کتاب بھی ہے جس میں ’’دھرن تختہ‘‘ کے معنی ہوں؟ اور ابھی پرسوں کا ذکر ہے۔ ایک محترمہ تشریف لائیں،سن یہی اٹھارہ انیس کا۔ نکلتا ہوا فربہ بدن۔ اپنی گڑیا کی چولی پہنے ہوئے تھیں۔ دونوں ہتھیلیوں کی رحل بنا کر اس پر اپنی کتابی چہرہ رکھا اور لگیں کتابوں کو ٹکر ٹکر دیکھنے۔ اسی جگہ جہاں تم کھڑے ہو۔ پھر دیارفت کیا، کوئی ناول ہے؟ میں نے راتوں کی نیند حرام کرنے والا ایک ناول پیش کیا۔ رحل پر سے بولیں یہ نہیں کوئی ایسا دلچسپ ناول دیجئے کہ رات کو پڑھتے ہی نیند آجائے۔ میں نے ایک ایسا ہی غشی آور ناول نکال کر دیا۔ مگر وہ بھی نہیں جچا۔ در اصل انہیں کسی گہرے سبز گرد پوش والی کتاب کی تلاش تھی، جو ان کی خواب گاہ کے سرخ پردوں سے ’’میچ‘‘ ہو جائے۔ اس سخت معیار پر صرف ایک کتاب پوری اتری، وہ تھی’’ استاد موٹر ڈرائیوری‘‘(منظوم) جس کو در اصل اردو زبان میں خود کشی کی آسان ترکیبوں کا پہلا منظوم ہدایت نامہ کہنا چاہئے۔

میں نے نوخیز خاتون کی حمایت کی’ہمارے ہاں اردو میں ایسی کتابیں بہت کم ہیں جو بغیر گرد پوش کے بھی اچھی لگیں، گرد پوش تو ایسا ہی ہے جیسے عورت کے لئے کپڑے۔‘‘

’’مگر ہالی ووڈ میں آج کل زیادہ تر ایکٹرسیں ایسی ہیں جو اگر کپڑے پہن لیں تو ذرا بھی اچھی نہ لگیں۔‘‘ مرزا نے بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔

لیکن نیانیا شوق تھا اور ابھی یہ نوبت نہیں آئی تھی کہ ایسے واقعات سے ان کی طبیعت سچ مچ مکدر ہو جائے۔ ڈیل کارنیگی کے مشورے کے مطابق وہ ہر وقت مسکراتے رہتے اور ہم نے سوتے میں بھی ان کی باچھیں بطور خیر سگالی کھلی ہوئی دیکھیں۔ اس زمانے میں بقول مرزا وہ چھوٹا دیکھتے نہ بڑا ہر کس و ناکس کے ساتھ ڈیل کارنیگی کیا کرتے تھے۔ حد یہ کہ ڈاکیا اگر بیرنگ خط بھی لاتا تو انعام و اکرام دے کر رخصت کرتے۔ گاہکوں کو تو ذاتی مہمان سمجھ کر بچھ بچھ جاتے اور اکثر متاع سخن کے ساتھ (اور کبھی اس کے بغیر ہی) خود بھی بک جاتے۔ سچ ہے خوش خلقی کبھی رائےگاں نہیں جاتی چنانچہ چند ہی دنوںمیں دوکان چل نکلی، مگر دکانداری ٹھپ ہو گئی۔ یہ صورت تضاد اس طرح پیداہوئی کہ دکان پر اب ان قدر دانوں کی ریل پیل رہنے لگی جو اصل میں ان سے کوکا کولا پینے یا فون کرنے آتے اور روکن میں ایک آدھ کتاب عاریتاً لے کر ٹلتے۔ جس گاہک سے خصوصیت برتتے، اس کی پیشوائی کو بے تحاشا دوڑتے ہوئے سڑک کے اس پار جاتے۔ پھر اسے اپنے اونچے سے اسٹول پر بٹھا کر فوراً دوسرے گاہک کو چالیس قدم تک رخصت کرنے چلے جاتے۔ ہر دو رسوم کی پر تکلف ادائیگی کے دوران دکان کسی ایک گاہک یا گروہ کی اجتماعی تحویل میں رہتی۔ نتیجہ؟ کتابوں کی قطاروں میں جا بجا کھانچے پڑ گئے۔ جیسے دانت ٹوٹ گئے ہوں۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق ایک نئے گاہک کو(جس نے ابھی ابھی ’’غبار خاطر‘‘ کا ایک نسخہ ادھار خریدا تھا۔) پاس والے ریستوران میں مصنف کی من بھاتی چینی چائے پلانے لے گئے۔ حلفیہ کہتے کہ مشکل سے ایک گھنٹہ وہاں بیٹھا ہوں گا، مگر واپس آکر دیکھا تو نوراللغات کی چوتھی جلد کی جگہ خالی تھی۔ ظاہر ہے کہ کسی بے ایمان نے موقع پاتے ہی ہاتھ صاف کر دیا۔ انہیں اس کی جگہ فسانہ آزاد کی چوتھی جلد رکھنا پڑی اور آخر کو یہی سیٹ چاکسو کالج لائبریری کو بذریعہ وی پی سپلائی کیا۔

چوریاں بڑھتی دیکھ کر ایک بزرگوار نے جو یوم افتتاح سے دکان پر اٹھتے بیٹھتے تھے (بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ صرف بیٹھتے تھے، اس لئے ہم نے ان کو کبھی اٹھتے نہیں دیکھا) مال کی نا جائز ’نکاسی‘ روکنے کے لئے یہ تجویز پیش کی کہ ایک تعلیم یافتہ مگر ایماندار منیجر رکھ لیا جائے۔ ہر چند کہ ان کا روئے سخن اپنی ہی طرف تھا، لیکن ایک دوسرے صاحب نے (جو خیر سے صاحب دیوان تھے اور روزانہ اپنے دیوان کی بکری کا حال پوچھنے آتے اور اردو کے مستقبل سے مایوس ہو کر لوٹتے تھے۔) خود کو اس اسامی کے لئے پیش ہی نہیں کہ بلکہ شام کو اپنے گھر واپس جانے سے بھی انکار کر دیا۔یہی صاحب دوسرے دن سے خزانچی جی کہلائے جانے لگے۔ صورت سے سزا یافتہ معلوم ہوتے تھے اور اگر واقعی سزا یافتہ نہیں تھے تو یہ پولیس کی عین بھلمنساہٹ تھی۔ بہر حال یہاں ان کی ذاتی سے خیانت مجرمانہ کا کوئی خدشتہ نہ تھا، کیونکہ دکان کی ساری بکری مدتوں سے ادھار پر ہو رہی تھی۔ یوں تو دکان میں پہلے ہی دن سے ’’آج نقدکل ادھار‘‘ کی ایک چھوڑ تین تین تختیاں لگی تھیں مگر ہم دیکتے چلے آئے تھے کہ وہ کل کا کام آج ہی کر ڈالنے کے قائل ہیں۔ پھر یہ کہ قرض پر کتابیں بیچنے پر ہی اکتفا کرتے تو صبر آ جاتا۔ لیکن آخر آخر میں یہاں تک سننے میں آیا کہ بعض گاہک ان سے نقد روپے قرض لے کر پاس والی دکان سے کتابیں خریدنے لگے ہیں۔

میں موقع کی تلاش میں تھا لہذا ایک دن تخلیہ پا کر انہیں سمجھایا کہ بندہ خدا! اگر قرض ہی دینا ہے تو بڑی رقم قرض دو تاکہ لینے والے کو یاد رہے اور تمہیں تقاضا کرنے میں شرم نہ آئے۔ یہ چھوٹے چھوٹے قرضے دے کر خلق خدا کے ایمان اور اپنے اخلاق کی آزمائش کاہے کو کرتے ہو؟ میری بات ان کے دل کو لگی۔ دوسرے ہی دن خزانچی جی سے نادہند خریداروں کی مکمل فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کرائی اور پھر خود اسی ترتیب سے ادھار وصول کرنے کا پنچ روزہ منصوبہ بنا ڈلا‘ لیکن الف ہی کی ردیف میں ایک ایسا نا ہنجار آن پڑا کہ چھ مہینے تک ’ب‘ سے شروع ہونے والے ناموں کی باری ہی نہیں آئی۔ میں نے یہ نقشہ دیکھا تو پھر سمجھایا کہ جب یہ حضرات تمہارے پاس حروف تہجی کی ترتیب سے قرض لینے آئے تو تم اس ترتیب سے وصول کرنے پر کیوں اڑے ہوئے ہو؟ سیدھی سی بات تھی مگر وہ منطق پر اتر آئے۔ کہنے لگے اگر دوسرے بے اصول ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں بھی بے اصولا ہو جاؤں۔ دیکھتے نہیں، اسکول میں حاضری کے وقت بچوں کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے پکارے جاتے ہیں۔ مگر بچوں کواسی ترتیب سے پیدا یا پاس ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، بولتے کیوں نہیں؟

اس کے باوجود میری نصیحت کا اتنااثر ضرور ہوا کہ اب کتاب ادھار نہیں بیچتے تھے’تحفتاً‘دے دیا کرتے تھے۔ کہتے تھے جب رقم ڈوبنی ہی ہے تو پھر ثواب سے بھی کیوں محروم رہوں؟ ادھر کچھ عرصے سے انہوں نے بہی کھاتے لکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ جس کا یہ معقول جواز پیش کرتے کہ میں نقصان مایہ میں جان کے زیاں کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ مرزا نے یہ لٹس مچتی دیکھی تو ایک دن پوچھا، ’’آج کل تم حکومت کے فرائض کیوں انجام دے رہے ہو؟‘‘

’’کیا مطلب؟‘

’’تم نے قوم کی مفت تعلیم کا ذمہ کیوں لے رکھا ہے؟‘‘

اب ان کے چہرے پر دانائی کی وہ چھوٹ پڑنے لگی جو عموماً دوالہ نکلنے کے بعد طلوع ہوتی ہے۔ مرزا کا خیال ہے کہ جب تک دو تین دفعہ دو الہ نہ نکلے آدمی کو دکان داری کا سلیقہ نہیں آتا، چنانچہ اس مبارک بر بادی کے بعد وہ بجھ سے گئے اور ہر شے میں اپنی کمی محسوس کرنے لگے۔ وہ دائمی (Built-in) مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی اور اب وہ بھول کر کسی گاہک سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے تھے۔ مبادا وہ ادھار مانگ بیٹھے۔ اکثر دیکھا کہ جوں ہی گاہک نے دکان میں قدم رکھا اور انہوں نے گھرک کر پوچھا،’’ کیا چاہئے؟‘‘ ایک دن میں نے دڑ بڑایا، ’’اندھے کو بھی نظر آتا ہے کہ کتابوں کی دکان ہے۔ پھر تم کیوں پوچھتے ہو،کیا چاہئے؟ کیا چاہئے؟‘‘ فرمایا، ’’کیا کروں،بعضے بعضے کی صورت ایسی ہوتی ہے کہ یہ پوچھنا پڑتا ہے۔‘‘

کتابیں رکھنے کے گناہ گار ضرورتھے ۔ طوعاو کرہاً بیچ بھی لیتے تھے۔

لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر

ان کے نک چڑھے پن کا اندازہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص پوچھتا ہوا آیا، ’’لغت ہے؟‘‘ ’لغت‘ کا تلفظ اس نے ’لطف‘ کے وزن پر کیا۔ انہوں نے نتھنے پھلا کر جواب دیا، ’’اسٹاک میں نہیں ہے۔‘‘ وہ چلا گیا تو میں نے کہا، ’’یہ سامنے رکھی تو ہے، تم نے انکار کیوں کر دیا؟‘‘ کہنے لگے، ’’یہ؟ لغت ہے۔ پھر یہ بھی کہ اس بچارے کا کام ایک لغت سے تھوڑا ہی چلے گا!‘‘ ہاں تلفظ پر یاد آیا کہ اس دور ابتلا میں انہوں نے دکان میں ازکار رفتہ ریڈیو رکھ لیا تھا۔ اسی کو گود میں لئے گھنٹوں گڑ گڑاہٹ سنا کرتے تھے، جسے وہ مختلف ملکوں کے موسم کا حال کہا کرتے تھے۔ بعد میں مرزا کی زبانی غائت سمع خراشی یہ معلوم ہوئی کہ اس ریڈیائی دمے کی بدولت کم از کم گاہکوں کی غلط اردو تو سنائی نہیں دیتی۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کتب فروشوں کو ہر کتاب پر اوسطاً تیس چالیس فی صد کمیشن ملتا ہے۔ بلا کدو کاوش۔ جس پیشے میں منافع کی یہ شرح عام ہو، اس میں دوالہ نکالنے کے لئے غیر معمولی دل و دماغ درکار ہیں۔ اور وہ ایسے ہی دل و دماغ کے مالک نکلتے اپنی حسابی صلاحیتوں کا دستاویزی ثبوت وہ اس زمانے ہی میں دے چکے تھے جب سہ ماہی امتحان کی کاپی میں وہ اپنا نام شیخ صبغت اللہ‘ لکھتے اور غیر سرکاری طور پر محض صبغے کہلاتے تھے۔ اسی زمانے سے وہ اپنے اس عقیدے پر سختی سے قائم ہیں کہ علم الحساب در حقیقت کسی متعصب کافرنے مسلمانوں کو آزار پہنچانے کے لئے ایجاد کیا تھا۔ چنانچہ ایک دن یہ خبر سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ رات ان پر علم الحساب ہی کے کسی قاعدے کی رو سے یہ منکشف ہوا ہے کہ اگر وہ کتابیں نہ بیچیں (دکان ہی میں پڑی سڑنے دیں) تو نوے فی صد منافع ہوگا۔ منافع کی یہ اندھا دھند شرح سن کر مرزا کے بھی منہ میں پانی بھر آیا۔ لہذا نز دیک ترین گلی سے صبغے کے پاس وہ گر معلوم کرنے پہنچے، جس کی مدد سے وہ بھی اپنی پرانے کوٹوں کی دکان میں تالہ ٹھوک کر فی الفور اپنے دلدر دور کرلیں۔

صبغے نے کان میں لگی ہوئی پنسل کی مدد سے اپنے فامولے کی جو تشریح کی اس کا لب لباب سلیس اردو میں یہ ہے کہ اب تک ان کا یہ معمول رہا کہ جس دن نئی کتابیں خرید کر دکان میں لگاتے ، اسی دن ان پر ملنے والے چالیس فیصد منافع کا حساب (قریب تریب پائی تک) لگا کر خرچ کر ڈالتے۔ لیکن جب یہ کتابیں سال بھر تک دکان میں پڑی بھنکتی رہتیں تو ’’ کرسمس سیل‘‘میں ان گنج ہائے گراں مایہ کو پچاس فی صد رعایت پر فروخت کر ڈالتے اور اس طرح اپنے حساب کی رو سے ہرکتاب پر نوے فی صد ناجائز نقصان اٹھاتے ۔ لیکن نیا فارمولا دریافت ہونے کے بعد اب وہ کتابیں یکسر فروخت ہی نہیں کریں گے، لہذا اپنی اس حکمت بے عملی سے نوے فی صد نقصان سے صاف بچ جائیں گے اور یہ منافع نہیں تو اور کیا ہے؟

کتب فروشی کے آخری دور میں جب ان پر پیمبری وقت پڑا تو ہر ایک گاہک کو اپنا مالی دشمن تصور کرتے اور دکان سے اس کے خالی ہاتھ جانے کو اپنے حق میں باعث خیر و برکت گردانتے۔ ہفتے کو میرا دفتر ایک بجے بند ہو جاتا ہے۔ واپسی میں یوں ہی خیال آیاکہ چلو آج صبغے کی دکان میں جھانکتا چلوں۔ دیکھا کہ وہ اونچے اسٹول پر پیر لٹکائے اپنے قرض داروں کی فہرستوں سے ٹیک لگائے سو رہے ہیں۔ میں نے کھنکار کر کہا، ’’قیلولہ۔۔۔؟‘‘

’’اسٹاک میں نہیں ہے!‘‘ آنکھیں بند کئے کئے بولے۔

یہ کہہ کر ذرا گردن اٹھائی۔ چندھیائی ہوئی آنکھوں سے اپنی داہنی ہتھیلی دیکھی اور پھر سو گئے۔

داہنی ہتھیلی دیکھنا ان کی پرانی عادت ہے، جسے زمانہ طالب علمی کی یاد گارہ کہنا چاہئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دن بھر خوار و خستہ ہونے کے بعد وہ رات کو ہوسٹل میں ہی نہ کسی کے سر ہو جاتے کہ صبح تمہارا منہ دیکھاتھا۔ چنانچہ ان کے کمرے کے ساتھی اپنی بد نامی کے خوف سے صبح دس بجے تک لحاف اوڑھے پڑے رہتے اور کچھوے کی طرح گردن نکال نکال کر دیکھتے رہتے کہ صبغے دفعان ہوئے یا نہیں۔ جب اپنے بیگانے سب آئے دن کی نحوستوں کی ذمہ داری لینے سے یوں منہ چھپانے لگے تو صبغے نے ایک ہندو نجومی کے مشورے سے یہ عادت ڈالی کہ صبح آنکھ کھلتے ہی شگون کے لئے اپنی دائیں ہتھیلی دیکھتے اور دن بھر اپنے آپ پر لعنت بھیجتے رہتے۔ پھر تو یہ عادت سی ہو گئی کہ نازک و فیصلہ کن لمحات میں مثلاً اخبار میں اپنا رول نمبر تلاش کرتے وقت، تاش پھینٹنے کے بعد اور کرکٹ کی گیند پر ہٹ لگانے سے پہلے، ایک دفعہ اپنی داہنی ہتھیلی ضرور دیکھ لیتے تھے۔ جس زمانے کا یہ ذکر ہے، ان دنوں ان کو اپنی ہتھیلی میں ایک حسینہ صاف نظر آ رہی تھی جس کا جہیز بمشکل ان کی ہتھیلی میں سما سکتا تھا۔

الماریوں کے ان گنت خانے جو کبھی ٹھساٹھس بھرے رہتے تھے، اب خالی ہو چکے تھے،۔جیسے کسی نے بھٹے کے دانے نکال لئے ہوں۔ مگر صبغے ہاتھ پرہاتھ دھر کر بیٹھنے والے نہیں تھے، چنانچہ اکثر دیکھا کہ ظہر سے عصر تک شیشے کے شو کیس کی فرضی اوٹ میں اپنے خلیرے چچیرے بھائیوں کے ساتھ سر جوڑے فلش کھیلتے رہتے۔ ان کا خیال تھا کہ جو اگر قریبی رشتہ داروں کے ساتھ کھیلا جائے تو کم گناہ ہوتا ہے۔ رہی دکان داری تو وہ ان حالوں کو پہنچ گئی تھی کہ تاش کے پتوں کے سوا اب دکا ن میں کاغذ کی کوئی چیز نہیں بچی تھی۔ گاہکوں کی تعداد اگر چہ تگنی چوگنی ہو گئی، مگر مول تول کی نوعیت قدرے مختلف ہوتے ہوتے جب یہ نوبت آ گئی کہ راہ چلنے والے بھی بھاؤ تاؤ کرنے لگے تو خزانچی جی نے خاکی گتے پر ایک نوٹس نہایت پاکیزہ خط میں آویزاں کر دیا، ’’یہ فرنیچر کی دکان نہیں ہے‘‘

یاد رہے کہ ان کی نصف زندگی ان لوگوں نے تلخ کر دی جو قرض پر کتابیں لے جاتے تھے اور بقیہ نصف زندگی ان حضرات نے تلخ کر رکھی تھی جن سے وہ خود قرض لئے بیٹھے تھے۔ اس میں شبہہ نہیں کہ ان کی تباہی میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا۔ قدرت نے ان کے ہاتھ میں کچھ ایسا جس دیا تھا کہ سونے کے ہاتھ لگائیں تو مٹی ہو جائے لیکن انصاف سے دیکھا جائے تو ان کی بر بادی کا سہرا قدرت کے علاوہ ان مہربانوں کے سر تھا جو انتہائی خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ دامے، درمے،قدمے، سخنے ان کو نقصان پہنچاتے رہےMushtaq Yousafi۔ دوسری وجہ جیسا کہ اوپر اشارہ کر چکا ہوں یہ تھی کہ وہ اپنے خاص دوستوں سے اپنی حاجت اور ان کی حیثیت کے مطابق قرضہ لیتے ہیں اور قرضے کو منافع سمجھ کر کھا گئے۔ بقول مرزا ان کا دل بڑا تھااور قرض لینے میں انہوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ قرض لین دین ان کے مزاج میں اس حد تک رچ بس چکا تھا کہ مرزا کا خیال تھا کہ صبغے دراصل سہروردی حکومت کو کھکھ کرنے کی غرض سے اپنی آمدنی نہیں بڑھاتے۔ اس لئے کہ آمدنی بڑھے گی تو لا محالہ انکم ٹیکس بھی بڑھے گا۔ اب تو ان کی یہ تمنا ہے کہ بقیہ عمر عزیز’’بنک اور ڈرافٹ ‘‘ پر گوشہ بد نامی میں گزار دیں لیکن ان کی نیت بری نہیں تھی۔ یہ اور بات ہے کہ حالات نے ان کی نیک نیتی کو ابھرنے نہ دیا۔ گزشتہ رمضان میں ملاقات ہوئی تو بہت اداس اورفکر مند پایا۔ بار بار پتلون کی جیب سے ید بیضا نکال کر دیکھ رہے تھے۔ پوچھا! صبغے! کیا بات ہے؟ بولے، کچھ نہیں۔ پروفیسر عبدالقدوس سے قرض لئے تیرہ سال ہونے کو آئے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اب واپسی کی سبیل کرنی چاہئے ورنہ وہ بھی دل میں سوچیں گے کہ شاید میں نا دہند ہوں۔

جوانی میں خدا کے قائل نہیں تھے، مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، ایمان پختہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اب وہ اپنی تمام نالائقیوں کو سچے دل سے من جانب اللہ سمجھنے لگے تھے۔ طبیعت ہی ایسی پائی تھی کہ جب تک چھوٹی سے چھوٹی بات پر بڑی سے بڑ ی قربانی نہ دے دیتے، انہیں چین نہیں پڑتا تھا۔ بقول مرزا، وہ انا الحق کہے بغیر سولی پر چڑھنا چاہتے تھے۔ تجارت کو انہوں نے وسیلہ معاش نہیں حلیہ جہاد سمجھا اور بہت جلد شہادت کا درجہ پایا۔

دکان کی دیوار کا پلاسٹر ایک جگہ سے اکھڑ گیا تھا۔ اس مقام پر (جو تقریباً دو مربع گز تھا۔ انہوں نے ایک سرخ تختی جس پر ان کا فلسفہ حیات بخط نستعلیق کندہ تھا، ٹانگ دی۔

باطل سے دبنے والے اے آسما ں نہیں ہم

اس میں قطعی کوئی تعلی نہیں تھی، بلکہ دیکھا جائے تو انہوں نے کسر نفسی ہی سے کام لیا کیونکہ باطل تو باطل، وہ حق سے بھی دبنے والے نہیں تھے! مرزا اکثر نصیحت کرتے کہ میاں! کامیابی چاہتے ہو تو کامیاب کتب فروشوں کی طرح بقدر ضرورت سچ بولو اور ہر کتاب کے حسن و قبح پر ضدم ضدا کرنے کے بجائے گاہکوں کو انہی کی پسند کی کتابوں سے بر باد ہونے دو جو بچارا تربوز سے بہل جائے اسے زبردستی انگور کیوں کھلاتے ہو؟ لیکن صبغے کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہے جن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا۔ اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے! تجارت اور نجات میں سنجوگ ممکن نہیں۔ تجارت میں فوری نا کامی ان کے نزدیک مقیاس الشرافت تھی۔ انہی کا مقولہ ہے کہ اگر کوئی شخص تجارت میں بہت جلد نا کام نہ ہو سکے تو سمجھ لو کہ اس کے حسب نسب میں فی ہے۔ اس اعتبار سے انہوں نے قدم قدم پر بلکہ ہر سودے میں اپنی نسبی شرافت کا وافر ثبوت دیا۔

حساس آدمی تھے۔ اس پر بد قسمتی یہ کہ ایک نا کام کتب فروش کی حیثیت سے انہیں انسانوں کی فطرت کا بہت قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اسی لئے بہت جلد انسانیت سے مایوس ہو گئے۔ انہوں نے تمام عمر تکلیفیں ہی تکلیفیں اٹھائیں۔ شاید اسی وجہ سے انہیں یقین ہو چلا تھا کہ وہ حق پر ہیں۔ زندگی سے کب کے بیزار ہو چکے تھے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا تھا کہ گویا اب محض اپنے قرض خواہوں کی تالیف قلوب کے لئے جی رہے ہیں۔ اب ہم ذیل میں وہ تاثرات و تعصبات مختصراً بیان کرتے ہیں جو ان کی چالیس سالہ نا تجربہ کاری کا نچوڑ ہیں۔

دکان کھولنے سے چار پانچ مہینے پہلے ایک ادبی خیر سگالی وفد (ادارہ برائے ترقی انجمن پسند مصنفین) کے ساتھ سیلون ہو آئے تھے جسے حاسد لنکا کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس جزیرے کی سہ روزہ سیاحت کے بعد اٹھتے بیٹھتے ’’ترقی یافتہ ممالک‘‘ کی ادب نوازی وعلم دوستی کے چرچے رہنے لگے۔ ایک دفعہ برادران وطن کی نا قدری کا گلہ کرتے ہوئے فرمایا، ’’آپ کے ہاں تو ابھی تک جہالت کی خرابیاں دور کرنے پرکتابیں لکھی جا رہی ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں تو اب مارا مارا ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ان خرابیوں کو دور کرنا ہے جو محض جہالت دور ہونے سے پیدا ہو گئی ہیں۔ صاحب! وہاں علم کی ایسی قدر ہے کہ کتاب لکھنا، کتاب چھاپنا، کتاب بیچنا، کتاب خریدنا، حد یہ کہ کتاب چرانا بھی ثواب میں داخل ہے۔ یقین مانئے ترقی یافتہ ممالک میں تو جاہل آدمی ٹھیک سے جرم بھی نہیں کر سکتا۔‘‘ شامت اعمال میرے منہ سے نکل گیا، ’’یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی کتاب اس وقت تک اچھی خیال نہیں کی جاتی جب تک کہ اس کی فلم نہ بن جائے اور فلم بننے کے بعد کتاب پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ انہیں غصہ آگیا، ’’تین پیسے کی چھوکری‘‘ کا کونا موڑ کر واپس الماری میں رکھی اور میرے لب و لہجے کی ہو بہو نقل اتارتے ہوئے بولے، ’’اور آپ کے ہاں یہ کیفیت ہے کہ نوجوان اس وقت تک اردو کی کوئی کتاب پڑھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے، جب تک پولیس اسے فحش قرار نہ دے دے اور فحش قرار پانے کے بعد اس کے بیچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ ان کے طنز میں طعنے کا رنگ آ چلا تھا، اس لئے میں نے جھٹ سے حامی بھر لی کہ پولیس اگر دل سے چاہے تو تمام اچھی اچھی کتابوں کو فحش قرار دے کر نوجوانوں میں اردو ادب سے گہرے دلچسپی پیدا کر سکتی ہے۔

میرے لہجے کا نوٹس لیتے ہوئے الٹے مجھی سے الجھنے لگے کہ آپ بات کی تہ تک نہیں پہنچے۔ آپ دھڑا دھڑ کتابیں چھاپ سکتے ہیں۔ مگر زبر دستی پڑھوا نہیں سکتے میں نے کہا، کیوں نہیں؟ اٹھا کے نصاب میں داخل کر دیجئے۔ وہ بھلا ہار ماننے والے تھے۔ کہنے لگے اگر یہ پوری کی پوری نسل کو ہمیشہ کے لئے کسی اچھی کتاب سے بیزار کرنا ہو تو سیدھی ترکیب یہ ہے کہ اسے نصاب میں داخل کر دیجئے۔

کتب فروشی کی بدولت صبغے کا سابقہ ایسے ایسے پڑھنے اور نہ پڑھنے والوں سے پڑا۔

ہزاروں سال نرگس جن کی بے نوری پہ روتی ہے

ان میں خیام کے وہ دل دادہ بھی شامل تھے جو اصل رباعیوں میں ترجمے کی خوبیاں تلاش کرتے پھرتے تھے۔ ان میں وہ سال خوردہ کتاب خواں بھی تھے جو کجلائے ہوئے کوئلوں کو دہکانے کے لئے بقول مرزا عریاں ناولوں سے منہ کالا کرنے اور سمجھتے کہ ہم اردو کی عزت بڑھا رہے ہیں۔ (یہ قول انہی کا ہے کہ فحش کتاب میں دیمک نہیں لگ سکتی کیونکہ دیمک ایسا کاغذ کھا کر افزائش نسل کے قابل نہیں رہتی۔) ان میں وہ خوش نصیب بھی تھے جن کے لئے کتاب بہترین رفیق ہے اور وہ کم نصیب بھی جن کے لئے واحد رفیق!

اور اس بے نام قبیلے میں وہ جدت پسند پڑھنے والے بھی شامل تھے جو لحظہ تازہ بہ تازہ ،نو بہ نو کے طلب گار تھے۔ حالانکہ ان جیسوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ فقط ڈکشنری ہی ایک ایسی کتاب ہے جسے وہ جب بھی دیکھیں، انشاء اللہ نئی معلوم ہوگی۔ لیکن ایک حد تک صبغے کی بھی زیادتی تھی کہ نئی اردو کتابوں کو اپنے دل اوردکان میں جگہ دینا تو بڑی بات ہے ، چمٹے سے پکڑ کر بھی بیچنے کے لئے تیار نہ تھے۔ ایک دن خاقانی ہند استاد ذوق کے قصائد کی گرد ہفتہ وار ٹائم سے جھاڑتے ہوئے گٹ گٹا کر کہنے لگے کہ آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ادب ایک ’’کیپ سول‘‘ میں بند کر کے ان کے حوالے کر دیا جائے، جسے وہ کوکا کولا کے گھونٹ کے ساتھ غٹک سے حلق سے اتارلیں۔ انسانی تہذیب پتھر اور بھوج پتر کے عہد سے گزر کر اب ریڈرز ڈائی جسٹ کے دو ر تک آگئی ہے۔ سمجھے؟ یہ مصنفوں کا دور نہیں، صحافیوں کا دور ہے! صحافیوںکا!

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’مگر صحافت میں کیا قباحت ہے؟‘‘

بولے، ’’کچھ نہیں۔ بڑا مصنف اپنی آواز پبلک تک پہنچاتا ہے، مگر بڑا صحافی پبلک کی آواز پبلک تک پہنچاتا ہے!‘‘

مصنفوں کا ذکر چھیڑ گیا تو ایک واردات اور سنتے چلئے۔ سات آٹھ مہینے تک وہ اردو افسانوں کا ایک مجموعہ بیچتے رہے، جس کے سر ورق پر مصنف کے دستخط بقلم خود ثبت تھے اور اوپر یہ عبارت : ’’جس کتاب پر مصنف کے دستخط نہ ہوں وہ جعلی تصور کی جائے۔‘‘ ایک روز انہیں رجسٹری سے مصنف کے وکیل کی معرفت نوٹس ملا کہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ ہمارے موکل کی کتاب کا ایک مصدقہ ایڈیشن عرصہ آ ٹھ ماہ سے مبینہ طور پر فروخت کر رہے ہیں، جس پر مصنف مذکور کے دستخط بقید تاریخ ثبت ہیں۔ آپ کو بذریعہ نوٹس ہذا مطلع و متنبہ کیا جاتا ہے کہ محولہ بلا کتاب اوردستخط دونوں جعلی ہیں۔ اصل ایڈیشن میں مصنف کے دستخط سرے سے ہیں ہی نہیں۔ اس واقعے سے انہوں نے ایسی عبرت پکڑی کہ آئندہ کوئی ایسی کتاب دکان میں نہیں رکھی، جس پر کسی کے بھی دستخط ہوں بلکہ جہاں تک بن پڑتا، انہی کتابوں کو ترجیح دیتے جن پر مصنف کا نام تک درج نہیں ہوتا۔ مثلا! الف لیلیٰ،ضابطہ فوجداری، ریلوے ٹائم ٹیبل، انجیل۔

تباہی کے جو طبع ز ادراہ بلکہ شاہراہ انہوں نے اپنے لئے نکالی، اس پر وہ تو کیا، قارون بھی زیادہ دیر گامزن نہیں رہ سکتا تھا، کیونکہ منزل بہت دور نہیں تھی۔ آخر وہ دن آہی گیا، جس کا دشمنوں کو انتظار تھا اور دوستوں کو اندیشہ، دکان بند ہو گئی۔ خزانچی جی کی تنخواہ ڈھائی مہینے سے چڑھی ہوئی تھی۔ لہذا خالی الماریاں، ایک عدد گولک چوبی جو نا دہندوں کی فہرستوں سے منہ تک بھری تھی۔ چاندی کا خوبصورت سگرٹ کیس، جسے کھولتے ہی محسوس ہوتا تھا، گویا بیڑی کا بنڈل کھل گیا۔ نسینی جس کی صرف اوپر کی تین سیڑھیاں باقی رہ گئی تھیں، خواب آور گولیوں کی شیشی، کراچی ریس میں دوڑنے والے گھوڑوں کے شجرہ ہائے نسب، نومبر سے دسمبر تک کا مکمل کلینڈر کیل سمیت۔ یہ سب خزانچی جی نے صبغے کی اولین غفلت میں ہتھیالیے اور راتوں رات اپنی تنخواہ کی ایک ایک پائی گدھا گاڑی میں ڈھو ڈھو کر لے گئے۔ دوسرے دن دکان کا مالک بقایا کرائے کی مد میں جو جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ اٹھا کریا اکھاڑ کر لے گیا، اس کی تفصیل کی یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ ہمارے پڑھنے والوں کو بس اتنا اشارہ کافی ہوگا کہ ان میں سب سے قیمتی چیز بغیر چابی کے بند ہونے والا ایک قفل فولادی ساختہ جرمنی تھا۔ پرانا ضرورتھا مگر ایک خوبی اس میں ایسی پیدا ہوگئی تھی جو ہم نے نئے سے نئے جرمن تالوں میں بھی نہیں دیکھی۔ یعنی بغیر چابی کے بند ہونا اور اسی طرح کھلنا!

صبغے غریب کے حصے میں صرف اپنے نام (مع فرضی فرزندان) کا سائن بورڈ آیا، جس کو سات روپے مزدوری دے کر گھر اٹھوا لائے اور دوسرے دن سوا روپے میں محلے کے کباڑی کے ہاتھ فروخت کر ڈالا۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دو مہینے تک اپنی ہتھیلی کا شبانہ روز مطالعہ کرنے کے بعد ایک ٹریننگ کالج میں اسکول ماسٹروں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ مرزا کے الفاظ میں صبغے کی کتب فروشانہ زندگی کے باب کا انجام نہایت افسانوی رہا۔ جس افسانے کی طرف یہاں مرزا کا اشارہ ہے، وہ در اصل کائی لنگ کی ایک مشہور چینی کہانی ہے، جس کا ہیرو ایک آرٹسٹ ہے۔ ایک دن وہ اپنی ایک ماڈل لڑکی کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت اپنے سارے برش اور کینوس سمیٹ سماٹ کر جلا ڈالے اور ایک سرکس میں ہاتھیوں کو سدھانے کا کام کرنے لگا۔

مشتاق احمد یوسفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے