شہرت سے نہ دولت سے نہ کار سے ملنی ہے

شہرت سے نہ دولت سے نہ کار سے ملنی ہے
بخشش تو تجھے صدقے سرکارؐ سے ملنی ہے
فردوس اگرچہ ہے تخلیق خداوندی
لیکن یہ محمدؐ کے دربار سے ملنی ہے
غم اک نہ رہے باقی تکبیر وہ ایک سن کر
جو مسجد نبویؐ کے مینار سے ملنی ہے
مل سکتی نہیں بے شک تم پر رکھو جہاں بھر کو
جو مثل محمدؐ کے کردار سے ملنی ہے
آقاؐ کے غلاموں میں جو چاہوں کہ شامل ہو
نسبت تجھے کربل کے سردارؓ سے ملنی ہے
خالد جو عطا کی ہے آقاؐ نے یہ نعت اپنی
راحت بھی سدا اب ان اشعار سے ملنی ہے
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے