شعبان کی پندرہویں

شعبان کی پندرہویں
حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں۔کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو۔ اس لئے کہ اس میں غروب شمس سے فجر طلوع ہونے تک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں۔ ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اس کی مغفرت کروں۔ کوئی روزی کا طلبگار کہ میں اس کو روزی دوں۔ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں۔ ہے کوئی ایسا۔ہے کوئی۔یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
ابن ماجہ جلد اول حدیث نمبر 1388
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔ تو تلاش میں نکلی دیکھتی ہوں۔ کہ آپ ﷺ بقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہیں یہ اندیشہ ہوا۔ کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا مجھے ایسا کوئی خیال نہ تھا بلکہ میں نے سمجھاکہ آپ اہنی کسی اہلیہ کے ہاں گئے ہوں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں۔ اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرما دیتے ہیں۔
ابن ماجہ جلد اول حدیث نمبر 1389
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب متوجہ ہوتے ہیں۔ اور تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتے ہیں۔ سوائے شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے۔
ابن ماجہ جلد اول حدیث نمبر 1390
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے۔ کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی ﷺ کو بستر پر نہ پایا۔ میں نکلی تونبی ؑجنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو گیا تھا۔ کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گئے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے۔ نبی ؑ نے فرمایااللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔
مسند احمد بن حنبل (مسند عائشہ ؓ) صفحہ 545-546 حدیث نمبر 26546
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے۔ کہ ایک رات میں نے رسول ﷺ کو نہ پایا۔ تو آپ ﷺ کی تلاش میں نکلی۔ آپ بقیع میں تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم ڈر رہی تھی۔ کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم نہ کریں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مین نے سمجھا کہ آپ شاید کیسی دوسری بیوی کے ہاں تشریف لے گئے ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق سے بھی روایت ہے۔
جامع ترمذی جلد اول حدیث نمبر 503 صفحہ نمبر 415
الداعی الخیر: عابد خان لودھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے