شب ہجراں 

شب ہجراں 

اے شب ہجراں زرا نزدیک آ

ہم بھی تو دیکھیں

 تیرے دامن میں کیا آسیب ہیں

لوٹتی ہے کس طرح تو ایک انساں کا سکوں

کاٹتی ہے یا کٹی جاتی ہے اسکی زندگی

چل چلی آئی ہے اب تو بیٹھ جا اور یہ بتا

دن میں تیرے کیا مشاغل اور کیا معمول ہیں

آ کبھی دن میں نکل کر دیکھ ہم لوگوں کے دکھ

کس اداکاری کی چادر تان کہ ہر درد کو

اپنی آنکھوں کی نمی کو روند کر ہنستے ہوئے

اس خرابے میں یقین و بے یقیں کے درمیاں

ان سبھی رشتوں کے بیچوں بیچ ہم مسرور سے

تیرے ہر آسیب کو تہہ کرکے رکھ دیتے ہیں ہم

دیکھ لو دلشاد ہیں یہ سب سے کہہ دیتے ہیں ہم

اے شب ہجراں زرا نزدیک آ

آ اب اپنی آنکھ میں تجھ کو سمونا ہے مجھے

ہنس چکی دن بھر اکیلی ہوں سو رونا ہے مجھے

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے