شعلہ، کبھی شبنم، کبھی خنجر تری آنکھیں

شعلہ، کبھی شبنم، کبھی خنجر تری آنکھیں
ہیں پیار کا ساگر کبھی نشتر تری آنکھیں

چھا جاتا ہے اک نشّہ فقط دیکھ کے اُن کو
صہبائے محبت کا ہیں ساغر تری آنکھیں

دیوانہ ہوا دیکھ کے بے پردہ فرشتہ
نرگس کی طرح شوخ و حسیں تر تری آنکھیں

ہو جاتا ہے سکتہ بھری محفل پہ بھی طاری
غصّے میں اگر ہوتی ہیں احمر تری آنکھیں

ہوتا ہے بشر ایک نظر میں ہی مُسخّر
پڑھتی ہیں بھلا کون سا منتر تری آنکھیں

آتا ہے نظر سارا جہاں اُن کے ہی اندر
گویا کہ ہیں جمشید کا ساغر تری آنکھیں

خطرہ ہے مجھے ڈوب نہ جاؤں کبھی اُن میں
لگتی ہیں مجھے جھیل منوّر! تری آنکھیں

سیّدہ منوّر جہاں منوّر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے