شکستہ تن ، برہنہ سر جو ٹھہرے

शिकस्ता तन, बरहना सर जो ठहरे
तुम्हारे दर तलक आ कर जो ठहरे
شکستہ تن ، برہنہ سر جو ٹھہرے
تمہارے در تلک آ کر جو ٹھہرے
हज़ारों शोर मातम कर रहे थे
हम अपनी ज़ात में पल भर जो ठहरे
ہزاروں شور ماتم کر رہے تھے
ہم اپنی ذات میں پل بھر جو ٹھہرے
हमें इक दूसरे तक लौटना था
कि हम इक दूसरे का घर जो ठहरे
ہمیں اک دوسرے تک لوٹنا تھا
کے ہم ایک دوسرے کا گھر جو ٹھہرے
तुम्हारा लम्स ही काम आयेगा अब
हम अपनी क़िस्म के पत्थर जो ठहरे
تمہارا لمس ہی کام آئیگا اب
ہم اپنی قسم کے پتھر جو ٹھہرے
मुहब्बत तुम से थी, हम से नहीं थी
फ़लक में तुम ही रौशन तर जो ठहरे
محبّت تم سے تھی ، ہم سے نہیں تھی
فلک میں تم ہی روشن تر جو ٹھہرے
رینو نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے