شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں

شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں
یہ کیا عذاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
ابھی تو عشق کی پرتیں کھلیں گی تہہ در تہہ
ابھی حجاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
پڑھا رہے ہو مجھے تم یہ کس جہاں کے سبق
مرے نصاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
تمہارے خواب سلامت ہیں اجڑی آنکھوں میں
جو زیر آب مرے آئنے میں رکھے ہیں
تمہارے ہجر میں گزرے ہوئے سبھی لمحے
مری کتاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
زبیر قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے